بلوچستان جل رہا ہے، صوبائی حکومت بے اثر ہوچکی: عبدالصمد خان متیرزئی

لاہور (انٹرویو: فرخ سعید خواجہ) مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے نائب صدر ملک عبدالصمد خان متیرزئی نے کہا ہے بلوچستان جل رہا ہے، صوبائی حکومت بے اثر ہوچکی ہے، نظریاتی لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کی جا رہی ہے، میرے دو بھتیجے بم دھماکوں میں مارے جاچکے، میرے گھر پر فائرنگ ہوئی بیوی بچے زخمی ہوئے، مسلم لیگ (ن) بلوچستان میں نمائشی پارٹی بن چکی، تنظیم نو کے بعد مسلم لیگ بلوچستان کی مجلس عاملہ، صوبائی کونسل حتیٰ کہ عہدیداروں کا آج تک ایک اجلاس نہیں ہوا مسلم لیگ (ن) کے کارکن اور حمایتیوں سمیت بلوچستان میاں نوازشریف کی راہ تک رہے ہیں، پاکستان کو بچانے کیلئے بلوچستان کو بچا لیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوائے وقت کو دئیے گئے انٹرویو میں کیا۔ متیرزئی نے کہا وہ قائداعظمؒ کے دور میں مسلم لیگ کے مرکزی نائب صدر ملک شاہجہان خان متیرزئی کے بھتیجے ہیں، ہمارے بڑوں نے قیام پاکستان کے لئے جدوجہد کی۔ ہمارے رگ و پے میں پاکستان کی محبت ہے خود میں مشرف دور کے آٹھ سال مسلم لیگ (ن) ضلع کوئٹہ کا صدر رہا تاہم سردار ثناء اللہ زہری مسلم لیگ بلوچستان کے صدر بنے تو انہوں نے مجھے ہٹا کر (ق) لیگ سے آنے والے لوٹے صلاح الدین رند کو کوئٹہ کا صدر بنا دیا۔ مشرف آمریت میں جدوجہد کرنے والے کارکن گھروں میں بیٹھ گئے ہیں۔ الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کو بری طرح شکست ہوئی۔ صوبائی حکومت میں مسلم لیگ (ن) حصہ دار ہے لیکن جو کمیٹیاں بنائی جا رہی ہیں ان میں مشرف دور میں قربانی دینے والے کارکنوں کی بجائے خوشامدیوں کو شامل کیا جا چکا ہے۔ بلوچستان میں اُن لوگوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے جو پاکستان پاکستانیت کی بات کرتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی بلوچستان میں حالت پتلی ہو چکی ہے اس کا سبب یہ ہے میاں نوازشریف نے بھوربن اجلاس میں جس پالیسی کا اعلان کیا تھا لوٹوں کو پچھلی صفوں میں بیٹھنا ہو گا اُس پالیسی کو بری طرح پامال کیا گیا۔ حتیٰ کہ مجھے کوئٹہ کی صدارت سے ہٹا کر صوبائی نائب صدر بنانے کا فیصلہ بھی قومیت پرستی کا آئینہ دار ہے، کوئٹہ کی 11 یونین کونسلوں میں 10 یونین کونسلوں میں پٹھان رہتے ہیں جبکہ صرف 1 یونین کونسل میں بلوچ ہیں۔