بحرہند میں لاپتہ طیارے کی تلاش دوبارہ شروع، مسافروں کے لواحقین کا پہلا احتجاج

سڈنی + بیجنگ (آن لائن) جنوبی بحر ہند میں ملائیشیا کے لاپتہ مسافر طیارے کے ممکنہ ملبے کی تلاش کی عالمی مہم دوسرے دن دوبارہ شروع کر دی گئی جبکہ لاپتہ ملائشین طیارے  کی تلاش کیلئے جانے والا ایک طیارہ ناکام ہو گیا، غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق  تلاش کی اس عالمی مہم میں چار فوجی طیاروں سمیت آسٹریلوی فضائیہ کے دو پی تھری اوریئن طیارے بھی حصہ لے رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خراب موسم تلاش کے کام میں خلل پیدا کر رہا ہے کہ جس کی وجہ سے  عارضی طور پر کام روک دیا گیا تھا۔ لاپتہ جہاز کی تلاش آسٹریلوی ساحلی شہر پرتھ کے جنوب مغرب میں تقربیاً 2500 کلو میٹر کے فاصلے پر کی جا رہی ہیں۔ تلاش سمندر میں تقریباً 23000 کلومیٹر کے علاقے  میں  کی جائے گی جس میں جلد ہی تجارتی بحری جہاز بھی شامل ہوجائیں گے۔ مزید برآں کم از کم سات چینی جہاز گذشتہ روز ملائیشین طیارے کے ممکنہ ملبے کی تلاش کیلئے روانہ ہو گئے۔ یہ بات سرکاری میڈیا نے بتائی۔ سرکاری خبررساں ایجنسی زینہوا کا کہنا ہے کہ امدادی جہاز ہائیزون 01اور 31اور ننہائی جائیو 101اور 115تلاش والے علاقے کی طرف روانہ ہوں گے۔ ایجنسی کے مطابق بحریہ کے تین دوسرے جہاز پہلے ہی روانہ ہو چکے ہیں۔ قبل ازیں لاپتہ  ملائیشین طیارے پر سوار چینی مسافروں کے قریبی عزیزوں نے گذشتہ روز بیجنگ میں اپنے پہلے اجتماع میں  ملائیشین حکام کے خلاف  اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جب طیارے کو لاپتہ ہوئے تقریباً دو ہفتے پورے ہو چکے ہیں۔ ایونٹ کا  آغاز شدید غصے کے انداز میں ہوا جس میں متاثرہ خاندانوں کے ارکان نے سیاسی نمائندوں اور سینئر فوجی حکام کے ایک گروپ کے تعارف کے دوران ان پر چیخنا چلانا شروع کردیا، ایک ناراض شخص نے بلند آواز میں کہا کہ  آپ نے بہت زیادہ وقت ضائع کردیا، ملائیشیا ایئرلائنز کی پرواز 370پر سوار افراد میں سے 153چینی باشندے شامل ہیں جو کہ مجموعی تعداد کا دوتہائی بنتے ہیں اور یہ اجلاس ایک ہوٹل میں ہوا جہاں مسافروں کے لواحقین اپنے پیاروں کے لئے خبریں ملنے کے منتظر ہیں۔ لواحقین حالیہ دنوں میں بھوک ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کی باتیں کررہے ہیں۔ فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق  یہ لوگ  اپنے آ پ کو گروپوں میں منظم کرنے کی کوشش بھی کررہے ہیں تاکہ ملائیشیا حکومت پر دبائو بڑھایا جاسکے۔