دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی بنانا ہوگی: فضل الرحمن

 دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی بنانا ہوگی: فضل الرحمن

لاہور (خصوصی نامہ نگار) جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پشاور کا سانحہ قومی المیہ ہے اس پر پوری قوم غم میں ڈوبی ہوئی ہے موجودہ نازک دور میں امت میں اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے، حکومت اور قومی قیادت جلد مشترکہ اور ٹھوس لائحہ عمل دے تاکہ ملک اس مشکل گھڑی سے آزاد ہو اور قوم خونی سازشوں سے باہر آسکے۔ وہ پارٹی رہنماﺅں مولانا محمد یوسف، حافظ حسین احمد، مولانا محمد امجد خان، مفتی ابرار احمد سے گفتگو کررہے تھے۔ فضل الرحمن نے کہا کہ معصوم بچوں کو خون میں نہلانے والوں نے ملک کا چہرہ مسخ کیا ہے انہو ں نے کہا کہ سانحہ پشاور ملک اور قوم پر حملہ ہے یہ سانحہ قومی المیہ ہے۔ سانحہ پشاور تاریخ کا سیاہ ترین واقعہ ہے اس واقعہ میں گولیوں کا نشانہ بننے والے ہمارے بچے تھے۔ فضل الرحمن نے کہا کہ بحیثیت قوم ہم اس وقت نازک دور سے گذر رہے ہیں اس میں ہم کسی اختلاف کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔ ملک میں امن کے قیام کے لئے سب کو اپنا کردار ادا کرناہوگا۔ دریں اثناءمولانا فضل علی حقانی، محمد اسلم غوری، حاجی شمس الرحمن شمسی سے گفتگو کرتے ہوئے فضل الرحمن نے کہا کہ معصوم بچوں اور خواتین کو مارنے والوں نے تاتاریوں کو بھی مات دے دی۔ چند لوگ اسلام کے چہرے کو مسخ کرنا چاہتے ہیں۔ قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے سب کو اپنا فرض کردار ادا کرنا ہوگا۔ دشت گردی سے نمٹنے کے لئے مشترکہ حکمت عملی بنانا ہوگی۔ جے یو آئی اس سانحہ میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

فضل الرحمن