دہشت گردوں کو پھانسی سے جیلوں پر حملوں کا خطرہ، مانیٹرنگ روم بنانے کا فیصلہ

لاہور (میاں علی افضل سے) اڈیالہ، کوٹ لکھپت، سنٹرل جیل فیصل آباد سمیت پنجاب کی جیلوں میں دہشت گردوں کے بڑے حملوں کے خطرات کے پیش نظر سکیورٹی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، دہشت گردوں کو سزائے موت دینے کے جاری سلسلہ کی وجہ سے جیلوں پر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا۔ محکمہ داخلہ اور جیل خانہ جات کی جانب سے سکیورٹی اقدامات میں بہتری کے لئے روزانہ کی بنیاد پر میٹنگز کی جا رہی ہیں جس میں 32 جیلوں میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے، جیمرز کی 24 گھنٹے ورکنگ کو ہر صورت یقینی بنانے کےلئے فوری طور پر اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی استعداد کار بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا جبکہ جیلوں کی سی سی ٹی وی کیمروں سے 24 گھنٹے مانیٹرنگ کےلئے جیلوں میں نئے مانیٹرنگ روم بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے سپیشل سیکرٹری محکمہ داخلہ کی جیل خانہ جات کے دفتر میں آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر اور پنجاب کے چاروں ریجن کے ڈی آئی جیز سے بھی مٹینگز ہوئی ہیں مٹینگز میں فیصلے کئے گئے سنٹرل جیل لاہور، ڈسٹرکٹ جیل لاہور، سنٹرل جیل گوجرانوالہ، سنٹرل جیل ساہیوال میں لگے 400، ڈسٹرکٹ جیل قصور، ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ، ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ میں لگے 225، سنٹرل جیل راولپنڈی، ڈسٹرکٹ جیل اٹک، ڈسٹرکٹ جیل گجرات، ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں لگے ڈھائی سو سے 300، ڈسٹرکٹ جیل منڈی بہاﺅالدین میں لگے 50، سب جیل چکوال میں لگے 25 سے 30، سنٹرل جیل فیصل آباد میں لگے 100، ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد میں لگے 50 سے 75 سنٹرل جیل میانوالی میں لگے 100 اور دیگر جیلوں میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی استعداد کار بڑھانے، ان کے رزلٹ میں بہتری لانے اور ان کے ذریعے جیلوں کی مانیٹرنگ کےلئے مانیٹرنگ روم کے فوری قیام کے لئے کام شروع کر دیا گیا ہے۔
جیل/ سکیورٹی