حکومت دہشت گردی کیخلاف قومی جنگ کا اعلان کرے، طاہر القادری، سانحہ پشاور پر عوامی تحریک کی ریلیاں

لاہور + فیصل آباد (خصوصی نامہ نگار + نمائندہ خصوصی + نمائندگان) عوامی تحریک نے سانحہ پشاور کے شہداءسے اظہار و عقیدت کےلئے اسلام آباد، کراچی، لاہور، ملتان، گوجرانوالہ، حیدر آباد سمیت ملک کے 21 بڑے شہروں میں ریلیاں نکالیں، کارکنوں نے وفاقی دارالحکومت میں زیرو پوائنٹ سے آبپارہ چوک تک ریلی نکالی، ریلی کے شرکاءنے ہاتھوں میں شہید بچوں سے اظہار عقیدت اور شہداءکے لواحقین سے اظہار یکجہتی کے لئے ہاتھوں میں بینرز اٹھائے ہوئے تھے، جس پر پاک فوج کے حق میں اور دہشت گردی کی مذمت کے حوالے سے نعرے درج تھے۔ ٹیلی فونک خطاب کرتے عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو قومی سطح پر جنگ قرار دیا جائے۔ انہوںنے کہا کہ سانحہ پشاور کی سخت مذمت کرتے ہیں، دہشت گردوں اور دہشت گردی کا مکمل اور فوری خاتمہ کیا جائے۔ دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان سے ہمدردی کا اظہار کرنے والوں کو بھی سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی فکری حمایت کرنے والے فیصلہ کریں کہ وہ کن کے ساتھ ہیں یا وہ کھل کر دہشت گردوں کا ساتھ دیں یا پھر دہشت گردی کےخلاف اپنا فیصلہ سنانے والے 18کروڑ عوام کے ساتھ کھڑے ہوں، اب دوہرے معیار نہیں چلیں گے۔ دہشت گرد اسلام، پاکستان اور انسانیت کے دشمن ہیں، ان سانپوں کا سر کچلنے کا وقت آ گیا، دہشت گردی کے خلاف 6 سوصفحات پر مشتمل ڈاکومنٹ دیا جس سے دنیا کے بیشتر ممالک نے استفادہ کیا۔دہشت گردوں کے حق میں بیان دینے والوں کا قوم بائیکاٹ کرے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی ساز سنجیدہ ہیں تو دہشت گردی کے خاتمے کےلئے ہمارے 14نکات پر عمل کریں۔ ادھر لاہور میں ریلی مرکزی صدر ڈاکٹر رحیق احمد عباسی کی قیادت میں مسجد شہداءسے چیئرنگ کراس تک نکالی گئی، شدید سردی کے باوجود خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد ریلی میں شریک ہوئی، ریلی کے شرکاءپاک فوج زندہ باد دہشت گرد مردہ باد اور جرا¿ت و بہادری طاہر القادری کے نعرے لگاتے رہے۔ ریلی سے مسیحی رہنماءفادر جیمز چنن،سکھ مذہب کے رہنما سردار بشن سنگھ نے بھی خطاب کیا۔ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے کہاکہ فوج نے ظالمان کو ختم کرنے کی جنگ ادھوری چھوڑی تو پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا، پہلی بار دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کسی حکومت نے نہیں پاکستان کے 18کروڑ عوام نے کیا، یہ جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے پر ہی ختم ہوگی۔انہوں نے کہا ہم نے شہدائے پشاور کے احترام میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے احتجاج کو موخر کیا لیکن ہم بھولے نہیں، قاتل حکمرانوں سے خون کے قطرے قطرے کا حساب لیں گے۔ دریں اثناءفیصل آباد میں پاکستان عوامی تحریک کے زیر اہتمام سانحہ پشاور کی مذمت میں اور افواج پاکستان کے ساتھ یکجہتی کے لئے ریلی نکالی جو ہزاروں مردوں خواتین پر مشتمل تھی جو ضلع کونسل ہال سے شروع ہو کر چوک گھنٹہ گھر اختتام پذیر ہوئی ۔ریلی کی قیادت صوبائی صدر چوہدری بشارت عزیز جسپال، محمد رفیق نجم، رانا طاہر سلیم خاں ، کاشف محمود ،میاں عبدالقادر،قاری محمد افضل قادری ،ڈاکٹر روبینہ رشید، باجی فاطمہ سجاد، باجی روبینہ خاکی اور دیگر نے کی۔ ریلی سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے قائد انقلاب ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ دہشت گرد اور ان کے سرپرست پاکستان کا مسئلہ نمبر 1ہیں۔ دہشت گرد گروپس اور ان کے حمایتیوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے ۔پارلیمنٹ دہشت گردی کی جنگ کو پاکستان کی جنگ قرار دینے کی متفقہ قرارداد منظور کرے ۔ دینی مدارس، جماعتوں ،تنظیموں اورشخصیات کو ملنے والی بیرونی فنڈنگ پر پابند ی لگائی جائے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بشارت عزیز جسپال، ضلعی صدر رانا طاہر سلیم خاں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضرب عضب آپریشن کو پورے ملک میں پھیلایا جائے کالعدم تنظیموں کے نام پر نہیں کام پر پابندی لگائی جائے۔ شرکاءریلی سے خطاب کرتے ہوئے قائدین نے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک برسرِ اقتدار آ کر پاکستان سے سیاسی اور مذہبی دہشت گردی کا خاتمہ کرے گی۔ سیالکوٹ سے نامہ نگار کے مطابق سیالکوٹ میں پاکستان عوامی تحریک نے شہدا، زخمیوں اور پاک فوج سے اظہار یکجہتی کے لئے ریلی نکالی۔ ریلی پریس کلب سے شروع ہو کر چوک علامہ اقبال پہنچی ۔ریلی کے شرکاءدہشت گرد مردہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگائے۔ریلی میں سانحہ پشاور میں ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے شہید خوشنود کے بھائی مہتاب اور چچا گل شیر نے خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ ضمانتوں پر رہا ہونے والے دہشت گردی دوبارہ دہشت گرد گروپ میں شامل ہوکر پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہو جا تے ہیں۔ دہشت گردی کبھی ختم نہیں ہو سکتی جب تک ملک میں انتہا پسندی ختم نہ کی جائے۔جھنگ سے نامہ نگار کے مطابق پاکستا ن عوامی تحریک اور منہاج القرآن کی جانب سے سانحہ پشاور کی مذمت اور شہداءکے لواحقین سے اظہار یکجہتی کےلئے ایک احتجاجی ریلی جمیل شہید پارک سے نکالی گئی ۔ریلی سے منہاج القرآن کے ضلعی امیر غلام سرور قادری ، رانا محمد اعظم ، سید نور جمال، مہدی حیات بھروانہ اور دیگر رہنماﺅں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی پاکستان کی بقاءاور سالمیت کے لئے خطرہ ہے۔ شرکاءنے اس بات کا عزم کیا کہ شہدا کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائےگا۔ نارووال سے نامہ نگار کے مطابقسانحہ پشاور کے شہداءسے اظہار یکجہتی کےلئے عوامی تحریک نارووال نے ایک احتجاجی ریلی نکالی جو ظفروال بائی پاس سے شروع ہو کر نیشنل پریس کلب کے سامنے اختتام پذیرہوئی ریلی کی قیادت عوامی تحریک کے رہنما عبدالقیوم خان ایڈووکیٹ‘ ضلعی صدر فیصل قیوم ایڈووکیٹ‘ نے کی۔ ریلی میں خواتین‘ بچوں و کارکنان کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ بھکر سے نامہ نگار کے مطابق سانحہ پشاور کیخلاف عوامی تحریک کے ضلعی دفتر سے ایک ریلی نکالی گئی جو ریلوے چوک بھکر پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر رہنماﺅں نے کہا کہ سانحہ پشاور کے بعد ثابت ہوچکا ہے کہ دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیںپاکستان آرمی دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کےفر کردار تک پہنچاکر عرض پاک کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کرے۔ سانحہ پشاور موجودہ حکمرانوں کے لےے لمحہ فکرےہ ہے۔ انہوں نے افواج پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے انہےں خراج تحسےن پےش کےا۔

عوامی تحریک ریلیاں