آئندہ نسلوں کے تحفظ کی منصوبہ بندی نہ کی تو پشاور جیسے سانحات ہوتے رہینگے: سراج الحق

 آئندہ نسلوں کے تحفظ کی منصوبہ بندی نہ کی تو پشاور جیسے سانحات ہوتے رہینگے: سراج الحق

لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاہے کہ تمام سیاسی قیادت نے متحد ہو کر وزیراعظم کو قیام امن کے لئے زبردست مینڈیٹ دیا ہے اب حکومتی صلاحیتوں کا امتحان ہے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھا کر ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی قائم کرے، امید ہے کہ پارلیمانی کمیٹی قوم کو بہتر لائحہ عمل دے گی، بین الاقوامی آلہ کار فرد ہو یا ادارہ، اس کو آئین کے مطابق سزا ملنی چاہیے ۔ استعماری قوتیں ہر واقعہ کو اسلام سے نتھی کر کے مسلمانوں کو بدنام اور دنیا کو اسلام سے متنفر کرنے کی کوشش کرتی ہیں ، حکومت غیر قانونی اسلحہ کو قانونی بنائے یا خرید کر اسلحہ خانہ میں جمع کرے، کسی مسلمان کو مسجدیں جلانے اور مدرسے گرانے کی باتیں زیب نہیں دیتیں۔ جرم مولانا کرے یا وزیر مشیر ، سب کو سزا ملنی چاہئے ، کسی ایک فرد کی غلطی پر پورے دین کو مورد الزام نہیں ٹھہرانا چاہئے۔ منصورہ میں وفود سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ڈالرز کے کاروبار نے ملک و ملت کو بہت نقصان پہنچایا اب یہ کاروبار بند ہونا چاہئے۔ ہماری آزادی اور خود مختاری کو آئی ایم ایف ، ورلڈ بنک اور ا مریکہ کے ہاتھ بیچ دیاگیا۔ امریکی ایجنڈا ہے کہ پاکستان میں انتشار اور انارکی پھیلا کر اسے ایک غیر محفوظ ملک ثابت کیا جائے۔ بحیثیت قوم ہماری ذمہ داری ہے کہ ان سازشوں کو ناکام بنائیں۔ سرا ج الحق نے کہا سانحہ پشاور معمولی حادثہ نہیں، یہ نائن الیون سے بڑا واقعہ ہے اگر ہم نے اس سے سبق حاصل کر کے اپنی آئندہ نسلوں کو تحفظ دینے کی منصوبہ بندی نہ کی تو ایسے حادثات کا تسلسل نہیں رک سکے گا۔ انہوں نے کہا اگر حکومت اور عدالتیں عام آدمی کو انصاف مہیا کرنے میں ناکام نہ ہوتیں تو فوجی عدالتیں بنانے کے مطالبات سامنے نہ آتے۔ انہوں نے کہاکہ شریعت میں قاتل کو معاف کرنے کا حق صرف مقتول کے ورثا کو ہے کسی صدر یا وزیراعظم کو نہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور افغانستان دونوں اسلامی ممالک اور پڑوسی ہیں ان کو پراکسی وار ختم کر کے عوامی سطح پر دوستی کو آگے بڑھانا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ انڈیا میں مسلمانوں کو سرکاری سرپرستی میں زبردستی ہندو بنایا جارہا ہے۔ علاقائی امن کے لئے ہندوستان کو اپنا رویہ درست کرناہو گا۔
سراج الحق