سول سیکرٹریٹ کے سپرنٹنڈنٹس اور پرائیویٹ سیکرٹریز کی پروموشن کی سمری دوبارہ منظور

لاہور (سپیشل رپورٹر) پنجاب کی بیورو کریسی نے حقائق چھپا کر سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی دور میں کےے گئے سول سیکرٹریٹ کے سپرنٹنڈنٹس اور پرائیویٹ سیکرٹریز کی گریڈ 17 میں پروموشن کوٹے سے متنازعہ فیصلے پر عملدرآمد کے لےے سمری وزیراعلیٰ پنجاب سے دوبارہ منظور کروالی ہے۔ جس سے سول سیکرٹریٹ کے 5 ہزار ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس فیصلے کے تحت گریڈ 17 میں سیکشن آفیسر کے عہدے پر ترقی کے لےے سپرنٹنڈنٹس کا کوتہ 56 فیصد سے کم کرکے 50 فیصد اور پرائیویٹ سیکرٹریز کا 44 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کر دیا گیا ہے۔ تاہم سابق چیف سیکرٹریٹ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور دیگر افسران نے ملازمین کے تحفظات پر اس فیصلہ پر عملدرآمد روک دیا تھا اور بارے نئی سمری تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ 2005ءمیں حکومت نے اس مسئلے کا دوبارہ جائزہ لینے کے لےے کمیٹی تشکیل دی تھی ، تاہم کمیٹی کی سفارشات کے برعکس سمری وزیراعلیٰ کو بھیج کر منظور کروالی گئی تاہم ملازمین کے تحفظات پر چیف سیکرٹری نے اس پر کارروائی روک دی اور 2007ءسے اس پر عملدرآمد شروع نہیں ہوا تھا لیکن اب محکمہ سروسز نے سپرنٹنڈنٹس اور پرائیویٹ سیکرٹریز بطور سیکشن آفیسر پروموشن کا کوٹہ مساوی کرنے کے فیصلے پر محکمہ خزانہ اور ریگولیشن ونگ کو لیٹر جاری کر دیا ہے ۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی سے 5 ہزار ملازمین کی ترقی رک جائےگی ۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ مسئلہ حل کرنے کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دیں ۔