بادامی باغ: بچے پر تشدد‘ ورثا کا سکول میں گھس کر جھگڑا‘ پرنسپل جاں بحق

لاہور (نامہ نگار) بادامی باغ مےں سکول میں بچے کو تشدد کا نشانہ بنانے پر ورثاءاور اساتذہ میںجھگڑا ہو گےا۔ جس دوران 60 سالہ پرنسپل ہلاک ہو گےا۔ پرنسپل کے اہلخانہ کے مطابق اسے گلہ دبا کر قتل کےا گےا۔ جس پر پولےس نے نعش پوسٹ مارٹم کے لئے مردہ خانے جمع کرا کر تفتےش شروع کر دی ہے۔ بتاےا جاتا ہے کہ بادامی باغ کے اےک سکول میں استاد کی جانب سے بچے بلال کو مبےنہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے پر اس کے ورثاءنے سکول جاکر اساتذہ سے جھگڑا شروع کر دیا۔ ہاتھا پائی کے دوران پرنسپل رضوان تنوےر دم توڑ گیا۔ پرنسپل کے اہلخانہ نے الزام لگایا کہ مسلسل غیر حاضری کے سبب طالبعلم بلال راشد کو سکول سے نکالے جانے پر اس کا والد راشد محمود اپنے برادر نسبتی سلطان، اہلیہ چندا اور ساس تاج بی بی کے ہمراہ لاٹھیاں لے کر زبردستی سکول میں داخل ہوا اور پرنسپل رضوان تنویرکا گلا دبوچ لیا۔ وہ پرنسپل کے سر کو پکڑ کر زور سے دیوار پر مارتے رہے اور لاتوں، گھونسوں اور ٹھڈوں سے بھی بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔ جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں محلہ داروں کے پہنچنے پر حملہ آور فرار ہو گئے۔ رضوان تنویر نے ہسپتال میں دم توڑ دےا۔ پولےس نے نعش پوسٹ مارٹم کے لئے مردہ خانے جمع کرا کر تفتےش شروع کر دی۔ علاوہ ازےں تحریک آزادی جموں کشمیر کے سیکرٹری جنرل حافظ خالد ولید، اساتذہ جماعة الدعوة کے مسﺅل حافظ طلحہ سعید ودیگر نے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ الدعوة ماڈل سکول بادامی باغ کے پرنسپل رضوان تنویر علاقہ میں خدمت خلق کے جذبہ کے تحت فروغ تعلیم میں مصروف تھے۔ انہیں غنڈوں کی طرف سے سکول میں گھس کر قتل کرنے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو اس واقعہ کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہئے اور قاتلوں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دینی چاہئے۔ رات گئے پولیس نے متوفی رضوان تنویر کے برادر نسبتی ندیم احمد کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے طالب علم بلال کے والد راشد کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق اصل حقائق پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد سامنے آئیں گے۔ متوفی رضوان تنویر چار بچوں کا باپ تھا۔
لاہور/پرنسپل جاں بحق