قومی اسمبلی سے وزیر غائب‘ اپوزیشن کا احتجاج‘ نعیمہ کشور نے فوجی عدالتوں کی مخالفت کی

اسلام آباد (سجاد ترین/ خبرنگار خصوصی) قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو حکومتی واپوزیشن ارکان کی بھرپور حاضری تھی مگر مغرب کی نماز کے بعد اجلاس شروع ہوا تو ایوان میں حکومتی ارکان کی تعداد دو درجن سے بھی کم تھی اور ایوان میں کوئی وزیر موجود نہ تھا۔ نوید قمر نے تقریر شروع کی تو اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے اور سپیکر کو متوجہ کیا کہ ایوان میں ایک بھی وزیر موجود نہیں ہم وزیراعظم کے آنے کا مطالبہ نہیں کرتے بلکہ جب تک وزیر نہیں آئے گا نوید قمر تقریر نہیں کریں گے۔ اس پر نویدقمر خاموش ہوکر بیٹھ گئے اور اپوزیشن ارکان نے ایوان میں شیم شیم کے نعرے لگانا شروع کر دیئے۔ 5منٹ کارروائی رکی رہی اور جیسے ہی وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی ایوان میں آئے سپیکر نے کہا سب سے لمبا وزیر ایوان میں آگیا ہے تقریر شروع کی جائے۔ فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے تقریر کرتے ہوئے اپوزیشن کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ محمود اچکزئی نے دفاعی اداروں پر شدید تنقید کی اور فوجی عدالتوں کے قیام کی آڑ میں ایسے ایسے الفاظ ادا کر دیئے جو ملکی سلامتی کے لئے ناقابل برداشت ہوسکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اچکزئی کی تقریر کا کسی نے کوئی مو¿ثر جواب نہ دیا جبکہ اپوزیشن کے ممبر شیخ رشید احمد نے محمود اچکزئی کا نام لیے بغیر کہا غیرملکی ایجنڈے پر کام کرنے والوں کو پاکستان کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ اپوزیشن کے ممبر جمشید دستی نے بھی ملٹری کورٹس کے قیام کے بل کی بھی مخالفت کی۔ جے یو آئی کی نعیمہ کشور نے بھی فوجی عدالتوں کی مخالفت کر دی جبکہ پی ٹی آئی کے ممبر مخدوم شاہ محمود قریشی نے فوجی عدالتوں کی مدت میں دو سال کی توسیع کی تمام ذمہ داری حکومت پر ڈال دی۔
وزیر غائب/ نعرے