’’اینٹی کرپشن کورٹ میں ایک ماہ کے دوران 25 سے 30 نئے مقدمات آتے ہیں‘‘

لاہور(سروے :شہزادہ خالد،  تصاویر: اعجاز لاہوری)لاہور میں قائم اینٹی کرپشن کورٹس میں دائر مقدمات کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔’’ نوائے وقت‘‘ کے خصوصی سروے کے مطابق اینٹی کرپشن کورٹس میںزیر التوا  مقدمات کی تعداد 2385 ہے۔ اینٹی کرپشن کورٹ 1 میں رواں سال کے پہلے اڑھائی ماہ کے دوران 81 مقدمات دائر ہو چکے۔ 2013 ء کے دوران 275 مقدمات دائر کئے گئے۔ ایک ماہ میں 25 سے 30 کے قریب نئے کیسز سامنے آتے ہیں جبکہ ہر ماہ 30 سے 35کے قریب مقدمات کے فیصلے کئے جاتے ہیں۔  اینٹی کرپشن کورٹ 2 میں گذشتہ برس 261  مقدمات دائر کئے گئے ، 161 کیس نمٹا دئیے گئے  اور  16 کیس دوسری عدالتوں میں ٹرانسفر کئے گئے۔ جنوری میں 39 ، فروری میں 43 اور مارچ میں 30  کیس دائر ہو چکے ہیں۔  سروے کے دوران اینٹی کرپشن کورٹس میں آنے والے سائلوں نے بھی اپنے مسائل سے آگاہ کیا، راولپنڈی سے آنے والے  رضا نامی شخص نے بتایا کہ انکے والد انور کیخلاف 9 برس پہلے  11500 روپے رشوت لینے کا مقدمہ درج کیا گیا، انکے والدسب انسپکٹر انور 4 برس قبل ریٹائر ہوئے اب 9 سال بعد گذشتہ روز انکے کیس کا فیصلہ کیا گیا ۔ فیصلے میں انکے والد کو 2 سال کی قید ہوئی ۔ لیکن 9 برس سے وہ راولپنڈی سے آ کر لاہور میں تاریخیں بھگت رہے ہیں۔ انور کے وکیل ملک عاصم نے کہا کہ چیف جسٹس کے سپیڈی ٹرائل کے حکم کے باوجود 9 برس بعد کیس کا فیصلہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ وہ آج ہائی کورٹ میں فیصلے کیخلاف اپیل دائر کریں گے۔ سائل کامران نے بتایاکہ یہاں بیٹھنے کا کوئی انتظام نہیں ۔انہوں نے کہا کہ کیسوں کے فیصلے جلدی ہونے چاہئیں اسلم نامی سائل نے بتایا گزشتہ  ر وز سارا دن عدالتوں کی بجلی بند رہی جس سے موم بتی کی روشنی میں فاضل ججز اور انکے عملے نے امور سر انجام دئیے۔ عدالتی اہلکار نے بتایا کہ جنریٹر کا کوئی انتظام نہیں جس سے خاصی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اینٹی کرپشن عدالتوں کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار کے پاس میٹل ڈیٹیکٹر نہیں تھا ۔ واک تھرو گیٹ کی عدم موجودگی سے سکیورٹی کے مسائل پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔عدالتوں میں آنے والے وکلا مشفق احمد خاں، ندیم بٹ ، طارق عزیز، عارف ملہی ، ندیم حیدر اور چودھری ولایت نے کہا کہ ہر ضلع میں انٹی کرپشن کورٹ بنائی جائے تاکہ قیمتی وقت کا ضیاع نہ ہو اور سپیڈی ٹرائل ممکن ہو ۔