پنجاب حکومت کا این جی اوز کو مفت سرکاری زمین دینے کے قانون میں ترمیم کا فیصلہ

لاہور ( معین اظہر سے ) پنجاب حکومت نے این جی اوز کو فری سرکاری زمین دینے کے لئے قانون میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ایسی تمام این جی اوز جو بہتر کام کررہی ہوں گی ان کو زمین مفت فراہم کر دی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے کسی بھی این جی او کو سرکاری  زمین مفت دینے کے خلاف گزشتہ سال فیصلہ دیا تھا جس پر پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں فیصلہ دیا تھا کہ کسی بھی این جی او کو زمین مفت فراہم نہیں کی جاسکے گی لیکن اب ایک مشہور این جی او کو زمین دینے کے  معاملے پر پنجاب حکومت نے قانون میں ترمیم کا فیصلہ کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے ایک بڑی این جی او کو لاہور اور سیالکوٹ میں سرکاری زمین دینے کا کیس منظوری کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھجوایا تھا جس پر انہوں نے  ریمارکس دئیے تھے کہ کوئی اتھارٹی کسی کو سرکاری زمین مفت الاٹ نہیں کر سکتی  جس پر کیس کو دوبارہ بھجوانے کی ہدایات دی گئی تھیں جس پر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر بنائی گئی کیبنٹ کمیٹی کو کیس بھجوا دیا جس میں قانون کی سیکشن 10 میں ترمیم کی سفارش کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ حکومت کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی کی لیز کو جتنا چاہے کم کر سکتی ہے۔ اس بارے میں بورڈ آف ریونیو کے ذرائع کے مطابق اس وقت حکومت ڈسٹرکٹ پرائس کمیٹی بنا کر لیز کا تعین کرتی ہے لیکن اب حکومت کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ جس کو چاہے ایک روپیہ کرایہ پر زمین لیز کر دے اور اگر کسی کے پاس مہنگی زمین ہے اس کی لیز کو کم کرنے کا اختیار بھی ہو گا۔ اس کے علاوہ سیکشن 12 میں ترمیم کی جارہی ہے جس کے تحت خصوصی حالات میں حکومت جب بہتر سمجھے گی اس کے تحت وہ رولز میں نرمی کرکے اور دئیے گئے طریق کار کو نرم کرکے کسی کو مفت زمین لیز پر دے سکے گی تاہم اس کے لئے اتھارٹی کو اسکی وجوہات لکھنی پڑیں گی۔ ریونیو بورڈ کے ذرائع کے مطابق اس قانون میں ترمیم کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کو اختیار  مل جائے گا‘ تاہم اس بارے میں بورڈ آف ریونیو کے حکام نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے پر کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس قانون میں ترمیم کے بعد اس کا غلط استعمال روکنے کا بھی کہا تھا جس پر اس اجلاس میں موجود وزیر تعلیم رانا مشہود نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں تجویز دی تھی کہ کیسوں کی سفارشات کے لئے اعلی سطحی کمیٹی بنا دی جائے جو اپنی سفارشات اتھارٹی کو دے گی۔ تاہم سیکرٹری وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ صرف ایسی تنظیموں کو یہ سہولت دی جائے جس کو وفاقی بورڈ آف ریونیو نے فلاحی آگنائزیشن کا سرٹیفکیٹ جاری کیا ہو اور اس کو ٹیکس میں چھوٹ فراہم کی ہو اور وفاقی اداراہ فلاح سے اس کو اجازت ملی ہو اس کا سرٹیفکیٹ لازمی قرار دے دیا جائے۔ تاہم وزیر اعلیٰ نے ان تجاویز پر کیبنٹ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایات جاری کر دی ہیں‘ تاہم تجویز کو اصولی طور پر منظور کرلیا گیا ہے صرف طریق کار کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔