قائداعظمؒ کی لاہور اور کراچی میں اربوں مالیت کی جائیداد پر مافیا کا قبضہ

لاہور (فرزانہ چودھری) قائداعظمؒ محمد علی جناح نے متحدہ ہندوستان کے کم و بیش ہر بڑے شہر میں بنگلے اور جائیدادیں خریدیں۔ انہوں نے لاہور میں پہلا بنگلہ ڈیگنل روڈ موجودہ عزیز بھٹی روڈ، لاہور کینٹ میں خریدا جس کا نمبر 538 تھا۔ اس بنگلے کا مجموعی رقبہ 14 کنال سے کچھ زائد تھا۔ قائداعظمؒ نے ابھی اس بنگلے میں قدم بھی نہیں رکھا تھا کہ جنوری 1944ء میں ڈیفنس آف انڈیا رولز کی دفعہ 575 کے تحت اُس وقت کی حکومت پنجاب نے اس بنگلے کو اپنے قبضے میں لے لیا اور یہاں فوجی میس قائم کر دیا گیا۔ حکومت پنجاب اور انگریز فوجی افسروں نے دراصل قائداعظمؒ کو ذہنی کوفت پہنچانے کے لئے بنگلہ سرکاری قبضہ میں لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ قائداعظمؒ کا یہ بنگلہ آج لاہور کور کمانڈر ہائوس بن چکا ہے۔ قائداعظمؒ محمد علی جناح کی لاہور میں زمین واگزار کرانے کے لئے بیرسٹر سید اقبال جعفری نے رٹ پٹیشن دائر کی۔ اس سلسلہ میں سنڈے میگزین کو انہوں نے انٹرویو دیتے ہوئے بتایا ’’جناح ٹرسٹ کی آڑ میں دراصل قبضہ مافیا نے گلبرگ میں قائداعظمؒ کی جائیداد پر قبضہ کیا تھا اس کا رقبہ 324 کنال 2 مرلہ اور 144 مربع فٹ ہے۔ جس کی اب مارکیٹ ویلیو 600 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ اس قبضہ مافیا نے کراچی ہاکس بے میں قائداعظمؒ کی 500 ایکڑ اراضی پر بھی قبضہ جما رکھا ہے۔ جس کی مالیت کئی سو کروڑ روپے سے کم نہیں ہے انہوں نے بتایا میں نے 1997ء میں قائداعظمؒ کی جائیداد قبضہ گروپوں سے واگزار کرانے کیلئے ایک رٹ فائل کی جس کی سماعت جسٹس ملک محمد قیوم نے کی اس کے بعد جسٹس مولوی انوارالحق نے کہا آپ یہ مقدمہ کراچی لے جائیں وہاں قائداعظمؒ کی جائیداد کا ایڈمنسٹریٹر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس قائدؒ نے ہمیں پاکستان بنا کر دیا اور ہمیں آزاد شہری ہونے کا اعزاز بخشا ان کی جائیداد کے ساتھ فراڈ ہو یہ بات ایک پاکستانی ہونے کے ناطے باعث شرم ہے۔ قائداعظمؒ محمد علی جناح کی جائیداد کے حوالے سے خصوصی فیچر 23 مارچ کے نوائے وقت سنڈے میگزین میں شائع ہو رہا ہے۔