حلقہ بندیاں الیکشن کمشن نے کرائیں تو بلدیاتی انتخابات 2015ء میں بھی نظر نہیں آ رہے : رانا ثناء

حلقہ بندیاں الیکشن کمشن نے کرائیں تو بلدیاتی انتخابات 2015ء میں بھی نظر نہیں آ رہے : رانا ثناء

لاہور (خصوصی نامہ نگار) صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ فوج ہم سے زیادہ الطاف حسین کے دماغی توازن کے بارے میں جانتی ہے وزیرا عظم کومیرے الطاف حسین کے بارے میں موقف پر کوئی اعتراض ہے اور نہ ہی ان کی جانب سے میری کوئی سرزنش کی گئی، الیکشن کمیشن کے پاس وسائل نہیں اگر الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں کرائے گا تو بلدیاتی انتخابات 2015ء میں بھی ہوتے نظر نہیں آ رہے،  الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیاں اگر اسسٹنٹ کمشنروں اور پٹواریوں سے ہی کرانی ہیں تو ہماری حلقہ بندیاں ہی قبول کر لیں، شیخ رشید کی بطور سیاسی ورکر عزت کرتا ہوں مگر 12اکتوبر 1999ء کے بعد انہوں نے غلطیاں کیں اور مصلحت کا شکار ہو کر پرویز مشرف کے کہنے پر ق لیگ کا ساتھ دیا، جرائم میں اضافے کا تعلق ایف آئی آر کے اندراج سے نہیں ہو تا ‘ دینی مدارس سے پکڑے جانے والے غیر قانونی طلبہ سے تحقیقات کی جا رہی ہیں،   اپوزیشن کاآر پی اوز، ڈی پی اوز کی میرٹ کے برعکس تعیناتی کا الزام بے بنیاد ہے۔ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ الطاف حسین کی دماغی حالت درست نہیں اور یہ صرف ہم نہیں بلکہ فوج بھی اچھی طرح جانتی ہے اور میں نے الطاف حسین کے دماغی توازن کو خراب قرار دے کر کوئی غلط بات نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کاکہنا تھا ہمارے پاس ووٹر لسٹیں 2013ء کی ہیں جبکہ مردم شماری 1998ء والی ہے اس لئے مردم شماری اور ووٹر لسٹوں کو آپس میں نہیں جوڑنا چاہئے ہم پہلے بھی بلدیاتی انتخابات کرانے پر تیار تھے اور اب بھی تیار ہیں۔ انہوںنے کہا جہاں بھی دہشت گردوں کی موجودگی کے حوالے سے کوئی اطلاع ملتی ہے تو ہم وہاں کارروائیاں کرتے ہیں اور دینی مدارس میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر جن غیر ملکی طلبہ کو گرفتار کیاگیا ہے ان سے تحقیقات کی جا رہی ہے اور جو طلبہ بھی بے گناہ ہوںگے ان کو چھوڑ دیا جائے گا جبکہ باقی کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔ علاوہ ازیں رانا ثناء اللہ خاں نے صوبہ کے 7 اضلاع کی ضلعی زکوۃ کمیٹیوں کے لئے نامزد کئے جانے والے چیئرمینوں کو تفویض کردہ ذمہ داریوں سے احسن طریقے سے عہدہ برآ ہونے اور شادی گرانٹ ، گذارہ الاؤنس ، عید گرانٹ اور دیگر مدات میں زکوۃ فنڈز سے جاری کردہ رقوم کو شفاف طریقے سے مستحقین تک پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے یہ بات گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے کمیٹی روم میں شیخوپورہ، لاہور، گجرات، ساہیوال ، پاکپتن، ملتان اور بہاولپور کے لئے نامزدچیئرمینوں کو تقررنامے دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ صوبائی وزیر زکوۃ و عشر ملک ندیم کامران نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نئے چیئرمینوں سے توقع کا اظہار کیا کہ وہ کسی بھی قسم کی ذاتی  پسند ناپسند اور سیاسی وا بستگی سے بالاتر ہو کر مستحقین میں زکوۃ فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنائیںگے۔انہوں نے نئے چیئرمینوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں زکوۃ کمیٹیاں تشکیل دیں اور اس ضمن میں جلد رپورٹ پیش کریں تاکہ مستحقین تک ان کا حق پہنچایا جاسکے۔ انہوںنے مزید کہا کہ وہ زکوۃ کی تقسیم کے وقت یا زکوۃ کے مستحق کا انتخاب کرتے وقت ان کی عزت نفس کا خاص طور پر خیال رکھیں۔ رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ زکوٰۃ فنڈ امانت ہے اس کی تقسیم کے عمل کو صاف اور شفاف بنایا جائے۔