کلیة البنات گرلز کالج کی اراضی پر قبضہ، 36 میں سے 8 کنال رقبہ رہ گیا

لاہور (لیڈی رپورٹر) لنک روڈ پر واقع گورنمنٹ کلیة البنات ڈگری کالج لاہور میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث طالبات شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ فرنیچر کی شدید قلت کی وجہ سے وہ چٹائیوں، دریوں اور سیڑھیوں پر بیٹھ کر تعلیمی سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے طالبات کومل عقیل اور مدیحہ جاوید نے بتایا کہ پانچ تعلیمی اداروں کے لےے ایک ہی مین گیٹ استعمال ہونے کے باعث کالج کی سکیورٹی ہی نہیں۔ نور النساءاور عروسہ نے کہا کہ کالج ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے آمدو رفت کے شدید مسائل ہیں۔ فریحہ امجد اور کرن سراج نے کہا کہ کلاس رومز انتہائی چھوٹے اور کم ہیں جس کی وجہ سے سرد موسم میں کھلے آسمان تلے بیٹھنا پڑتا ہے۔ کنیز بتول نے کہا کہ کالج میں ایم اے کی کلاسز شروع کی جائیں۔ اساتذہ عابدہ حفیظ، روبینہ سلیم اور فرزانہ احمد نے کہا کہ چار دیواری نہ ہونے کی وجہ سے اردگرد کے سکولوں کے بچے بریک کے وقت کالج میں آکر شور مچاتے ہیں جبکہ ان اداروں میں منعقدہ ہونے والی تقریبات کے موقع پر کالج میں صفائی کے مسائل کے علاوہ تدریسی عمل بھی شدید متاثر ہوتا ہے۔ کالج پرنسپل پروفسیر رخسانہ فرخ نے بتایا کہ اردگرد کے تعلیمی اداروں نے کالج اراضی کے وسیع رقبے پر قبضہ کر رکھا ہے جس کی وجہ سے اب 36 کنال میں سے کالج کے پاس صرف 8 کنال زمین ہے۔