وفاقی اور صوبائی محکمہ صحت کی ملی بھگت سے جان بچانے والی ادویات کی مصنوعی قلت

لاہور (اویس قریشی سے) وفاقی و صوبائی محکمہ صحت کے ارباب و اختیار کی ملی بھگت اور بعض معاملات میں محکمانہ روایتی غفلت کے باعث ملک میں ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت لائف سیونگ ڈرگز کی جان بوجھ کرمصنوعی قلت پیدا کی جا رہی ہے واضح رہے کہ 6 مہینے قبل بھی اسی طرح کی مصنوعی قلت کے بعد بغیر کسی ادارے کے نوٹیفکیشن کے 10 سے 15 فیصد تک دل کے امراض کیلئے درجنوں مختلف کمپنیوں کی ایک ہی سالٹ کی ادویات سمیت درد شقیقہ‘ گلہڑ‘ گھینٹیا‘ چکن پاکس‘ تھراکسن سمیت متعدد روزہ مرہ استعمال ہونیوالی جان بچانے والی ادویات کی اس وقت مارکیٹ میں بہت زیادہ قلت ہے ۔ قابل اعتماد ذرائع کے مطابق 2007ءسے جنوری 2010ءتک فیڈرل ڈرگ آفس اور صوبائی سطح کے ڈرگز حکام نے کسی ڈسٹری بیوٹرکے خلاف ابھی تک کوئی سخت محکمانہ ایکشن نہیں لے رہے۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر ندیم حیات ملک نے نوائے وقت کو بتایا اس وقت لائف سیونگ ڈرگز پر ناجائز منافع خوری جاری ہے۔ ریٹیلرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بھی نوائے وقت کو بتایا کہ وفاقی ڈرگز انسپکٹر اس سارے مکروہ دھندہ میں پورے شریک ہیں تین سال سے کوئی کارروائی نہیں ہو رہی۔ فارما انڈسٹری سے وابستہ مالکان ڈرگ کنٹرول اینڈ پرائسسنگ کنٹرول کے بعض حکام سے باہمی رضا مندی سے ایک دفعہ دوبارہ لائف سیونگ ڈرگز جو40 سے بھی زیادہ مختلف کمپنیوں اور سالٹ کی ہیں انکی 10 سے 15 فیصد قیمتیں بڑھانے کی تیاری کر رہے ہیں اس وقت بھی عام استعمال کے انجکشن ٹیرامائی سن‘ ایسوپٹن انجکشن‘ کانٹیل ریجن‘ کپنا سائن اور ریوریکس کریم سمیت کئی عام استعمال کی ادویات صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر کے میڈیکل سٹور مالکان کے پاس نایاب آئٹم کے طور پر موجود ہیں۔