لیگی دھڑے آپس میں لڑتے رہے تو الیکشن پیپلز پارٹی الیکشن جیت جائے گی : مجید نظامی

لاہور (خصوصی رپورٹر) تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکن‘ ممتاز صحافی اور نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی نے کہا ہے کہ نوجوان مسلم لیگ کو متحد کرنے کے لئے جدوجہد کریں اگر مسلم لیگ کے مختلف دھڑے آپس میں لڑتے رہے تو وہ آئندہ انتخابات نہیں جیت سکتے۔ پاکستان کی حفاظت کی ذمہ داری نوجوانوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ جب بھی ملک پر کڑا وقت آئے تو وہ تلوار ہاتھوں میں اٹھا کر دشمن کا مقابلہ کریں۔ وہ ایوانِ کارکنانِ تحریکِ پاکستان‘ لاہور میں مسلم لیگ کے 104ویں یومِ تاسیس کے موقع پر منعقدہ خصوصی نشست سے خطاب کر رہے تھے جس کا اہتمام نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ نے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن اور تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ نشست سے نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد‘ صوبائی وزیر خوراک ملک ندیم کامران‘ صوبائی وزیر جیل و صنعت چودھری عبدالغفور‘ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی صدر اور رکن صوبائی اسمبلی رانا محمد ارشد اور مسلم لیگ یوتھ ونگ کے رہنما غلام حسین شاہد نے بھی خطاب کیا۔ نشست میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکنوں کی کثیر تعداد کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھی شرکت کی۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک‘ نعت نبویﷺ اور قومی ترانے سے ہوا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے سرانجام دئیے۔ مجےد نظامی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج نوجوانوں کے سےنوں پر مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے بےج دےکھ کر بے حد خوشی ہوئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فےڈرےشن ہمارے گھر آٹھ بےڈن روڈ پر مےرے بھائی حمےد نظامی کی زےر صدارت قائم ہوئی تھی اور وہیں اس کا صدر دفتر تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ تحرےک پاکستان کے دوران اسلامےہ کالج لاہور اور اسلامےہ کالج پشاور کے طلبہ نے بے حد کام کےا بلکہ حقےقت ےہ ہے کہ برصغےر بھرکے طلبہ نے تحرےک پاکستان کے لئے کام کےا۔ اُنہوں نے کہا کہ رانا محمد ارشد مبارکباد کے مستحق ہےں کہ اُنہوں نے مسلم سٹوڈنٹس فےڈرےشن کی ازسر نو بنےاد رکھی ہے۔ مجےد نظامی نے دعا کی کہ اللہ کرے کہ اےم اےس اےف کا بےج نوجوانوں کے سینوں پر ہمیشہ آویزاں رہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کو علامہ محمد اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے فرمودات کی روشنی مےں جدےد اسلامی جمہوری فلاحی مملکت بنانے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات مےں آپ طلبہ مسلم لےگ کے لئے کام کرےں اور اس کے ساتھ مسلم لےگ کو متحد کرنے کی کوشش کرےں اور اسے قائداعظمؒ والی مسلم لےگ بنائےں۔ اُنہوں نے بتاےا کہ گزشتہ سال مےں نے مسلم لےگ کے دھڑوں کو متحد کرنے کی کوششےں کےں لےکن کامےاب نہ ہوسکا۔ اُنہوں نے بتاےا کہ مےاں محمد نواز شرےف‘ چودھری شجاعت حسین بھی اسی سٹےج پر تشرےف لائے اور پےرپگاڑا نے اپنا پےغام پہنچاےا کہ جب بھی مسلم لےگ متحد ہوئی تو مےری فنکشنل مسلم لےگ اس کا حصہ بن جائے گی لےکن بے حد افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مےاں برادران اور چودھری برادران نے اس تحرےک کو سنجےدگی سے نہےں لےا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر ن لےگ اور ق لےگ آپس مےں لڑتے رہے تو انتخابات مےں سےٹ کی بوٹی پےپلز پارٹی کی جےت اٹھا کر لے جائے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ خدا کرے کہ مسلم سٹوڈنٹس فےڈرےشن زندہ رہے کےونکہ پاکستان کو اس کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان کے اےک سے دو حصے بن چکے ہےں۔ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے۔ اس کا دھےان رکھےں اور اس سے نمٹنے کے لئے ہمےشہ تےار رہےں۔ کےونکہ پاکستان کی حفاظت کی ذمے داری نوجوانوں پر بھی عائد ہوتی ہے اور جب وقت آئے تو تلوار اٹھا کر بھارت کا مقابلہ کرےں۔ دو قومی نظرےہ اےک حقےقت ہے۔ ہندو اور مسلمان دو علےحدہ قومےں تھےں اور ہمےشہ الگ الگ ہی رہےں گی۔ تحرےک پاکستان کے کارکن اور نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چےئرمےن پروفےسر ڈاکٹر رفےق احمد نے کہا کہ قائداعظمؒ جب کوئٹہ تشرےف لے گئے تو انہےں قاضی محمد عےسیٰ نے احمد شاہ ابدالی کی تلوار پےش کی تو آپ نے شکریے کے ساتھ تلوار قبول کرتے ہوئے کہا کہ مےرے نوجوانو! ےاد رکھو تلوار سے زےادہ طاقتور چےز قلم ہے لہٰذا آپ قلم پر زےادہ توجہ دےں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمےں تلوار کے ساتھ ساتھ قلم کو بھی ہاتھ مےں پکڑنا چاہئے اور پھر زبردست طالب علم بن کر پاکستان کی خدمت کرےں۔ اُنہوں نے کہا کہ 1940ءسے قبل مسلمانوں کی حالت انتہائی بدتر تھی۔ درجنوں سےاسی جماعتوں کے باوجود مسلمان سےاست مےں بہت پےچھے تھے لےکن پھر قائداعظمؒ کی قےادت مےں سب لوگ اےک پلےٹ فارم پر متحد ہوئے اور اس طاقت کی بناءپر وہ بالآخر اےک ملک حاصل کرنے مےں کامےاب ہو گئے۔اُنہوں نے بتاےا کہ متحدہ ہندوستان مےں مسلمانوں کے لئے ترقی کرنے کے تمام راستے بند تھے۔ انہےں تعلےمی اداروں مےں داخلہ نہےں ملتا تھا اور نہ ہی وہ تجارت کرسکتے تھے۔ اُنہوں نے بتاےا کہ اےک بار اےک روسی سفےر جب واپس جانے لگاتو ہم نے پنجاب ےونےورسٹی مےں اس کی الوداعی پارٹی کی تو اس دوران اس نے بتاےا کہ مےں لاہور آرہا تھا کہ راستے مےں گاڑی خراب ہوگئی۔ کارےگروں نے ٹھےک کرنے کی کوشش کی لےکن کامےاب نہ ہوئے۔ کافی دےر بعد اےک لڑکا آےا اور گاڑی ٹھےک کرنے کی پےش کش کی۔ مےں نے کہا کہ تم چھوٹے سے لڑکے کےا کرو گے لہٰذا مےں نے اسے گاڑی ٹھےک کرنے کی اجازت نہ دی۔ وہ بار بار آتا رہا۔ بالآخر تنگ آکر مےں نے اسے اجازت دی تو اس نے دو منٹ مےں گاڑی سٹارٹ کردی اور میں حیران پریشان ہو کر اسے دیکھنے لگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی نوجوان بہت زےادہ صلاحےتوں کے حامل ہےں۔ آپ کو امرےکہ اور دےگر ملکوں کے پےچھے نہےں بھاگنا چاہئے۔ پروفےسر ڈاکٹر رفےق احمد نے بتاےا کہ جب وہ سفےر رخصت ہونے لگے تو اُنہوں نے ہم سے درخواست کی کہ ہم انہےں مسلم لےگ کے بارے مےں کتابےں مہےا کرےں۔ ہماری حےرانگی پر اُنہوں نے بتاےا کہ مسلم لےگ کے اغراض و مقاصد بے حد خطرناک ہےں کہ جنہوں نے دنےا کی دو بڑی طاقتوں کو شکست دے کر اےک اسلامی ریاست قائم کردی‘ پروفےسر ڈاکٹر رفےق احمد نے بتاےا کہ مسلم لےگ نے پوری دنےا کو اےک شعور اور نظرےہ دےا ہے۔ لوگوں مےں حق خودارادےت کا احساس پےدا کےا ہے۔ اُنہوں نے بتاےا کہ جب ہم تحرےک پاکستان کے دوران مسلم سٹوڈنٹس فےڈرےشن کے پلےٹ فارم پر مسلم لےگ کے لئے کام کرتے تھے تو ہمارے جلسوں کے دوران ہندو افسر جلسہ گاہ مےں پانی چھوڑ کر ہمارا نظام درہم برہم کردےتے تھے لےکن اس کے باجود ہم اپنے مشن سے پےچھے نہےں ہٹے۔ اُنہوں نے بتاےا کہ 23 مارچ 1940ءکے جلسے مےں مےں بھی شرےک تھا اور اس دوران ہم نے قائداعظمؒ کو دےکھا۔ ان کی شخصےت انتہائی پرکشش اور بارعب تھی اور وہ حقےقی معنوں مےں کروڑوں مسلمانانِ ہند کے رہنما دکھائی دےتے تھے۔ اُنہوں نے بتاےا کہ پاکستان کی جغرافےائی حےثےت انتہائی اہمےت کی حامل ہے اور اگر پاکستان اپنی گزر گاہےں بند کر دے تو آدھی دنےا شدےد متاثر ہوسکتی ہے۔ اُنہوں نے بتاےا کہ اےک بار پاکستان نے بھارت کے لئے اپنا فضائی راستہ بند کردےا تو بھارت کی فضائی کمپنی کو شدےد خسارہ ہونے لگا کےونکہ انہےں طوےل چکر لگا کر دےگر ممالک تک جانا پڑتا تھا چنانچہ پھر اُنہوں نے پاکستان سے فضائی راستہ کھولنے کی درخواست کی۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی 6 کروڑ سے زائد نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ان کے ذرےعے ہم آسمانوں پر پہنچ سکتے ہےں۔ اُنہوں نے کہا کہ علامہ اقبالؒ نے اپنے کلام مےں کہا تھا کہ مجھے ان جوانوں سے محبت ہے جو ستاروں پر کمندےں ڈالتے ہےں اور قرآن پاک مےں بھی مسلمانوں کو اس کا حکم دےا گےا ہے کہ وہ زمےن و آسمان کو اپنے لئے مسخر کرنے کے لئے شب و روز جدوجہد کرےں۔ اُنہوں نے کہا کہ جمہورےت کے بغےر پاکستان ترقی نہےں کرسکتا۔ آمرےت اس کے لئے سخت نقصان دہ ہے اور مجےد نظامی نے ہمےشہ آمروں کی آنکھوں مےں آنکھےں ڈال کر بات کی ہے۔ صوبائی وزےرخوراک ملک ندےم کامران نے کہا کہ مسلم سٹوڈنٹس فےڈرےشن کے نوجوان ہر مرحلے پر مسلم لےگ کا ہر اول دستہ ثابت ہوئے۔ تحرےک پاکستان کے دوران ےہی نوجوان تھے جنہوں نے قائداعظمؒ کی پکار پر لبےک کہا اور ان کے حکم پر قرےہ قرےہ گاﺅں گاﺅں مےں مسلم لےگ کا پےغام پہنچانے کے لئے پھےل گئے۔ اُنہوں نے کہا کہ سابق صدر پروےز مشرف کی ڈکٹےٹر شپ کے دوران مسلم سٹوڈنٹس فےڈرےشن کے کارکنوں نے ہر احتجاجی تحرےک مےں بھرپور حصہ لےا۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے۔ ہم نے اس کی خدمت کرنا ہے اور اسے ترقی ےافتہ اقوام کی صف مےں بلند مقام دلانا ہے۔ اُنہوں نے نوجوانوں کو نصےحت کی کہ آپ حصولِ تعلےم پر اپنی تمام تر توجہ صرف کرےں اور ان سازشوں کے سامنے سےسہ پلائی ہوئی دےوار بن جائےں جو ملک دشمن عناصر پاکستان کے خلاف تےار کررہے ہےں۔ اُنہوں نے کہا کہ کرپشن‘ تونائی بحران جےسے مسائل ختم ہونے چاہئےں اور اےسا تب ہی ہوگا جب ہم پاکستان کے لئے کام کرےنگے۔ اُنہوں نے بتاےا کہ ہمارا جےنا اور مرنا مسلم لےگ کے لئے ہے۔ اُنہوں نے بتاےا کہ جب 12 اکتوبر 1999ءکو اقتدار پر شب خون مارا گےا تو اس وقت ساہےوال مےں مسلم لےگ کے 9 رکن صوبائی اسمبلی تھے لےکن 12 اکتوبر کے بعد 8 ارکان مسلم لےگ کا ساتھ چھوڑ گئے لےکن مےں مشکل حالات کے باوجود مسلم لےگ سے وابستہ رہا اور اس دوران مجھ پر بے حد تشدد بھی کےا گےا اور لالچ اور دھمکےاں بھی دی گئےں۔ اُنہوں نے کہا کہ جنگ دہشت گردی کے خلاف نہےں کی جارہی بلکہ ےہ اسلام کے خلاف ہو رہی ہے اور امرےکہ اور ےورپ نے ہمےں غلط فہمی مےں مبتلا کررکھا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ےہود و ہنود ہرگز ہمارے دوست نہےں ہوسکتے اور قرآن پاک مےں بھی اس کا ذکر ہے۔ صوبائی وزیر جیل خانہ جات چودھری عبدالغفور نے کہا کہ آج اس تجدےد عہد کا دن ہے کہ ہم نے پاکستان کو قائداعظمؒ کے فرمودات و تصورات کے مطابق بنانا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ےہ ملک برصغےر کے کروڑوں مسلمانوں نے قائداعظمؒ کی قےادت مےں شب و روز کی جدوجہد کے بعد حاصل کےا۔ آج ہم اپنے رہنما مجےد نظامی کی قےادت مےں اس عہد کی تجدےد کرتے ہیں کہ جس طرح مسلم سٹوڈنٹس فےڈرےشن کے رکن محمد مالک نے تحرےک پاکستان کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پےش کےا اسی طرح ہم اپنے خون کا آخری قطرہ تک پاکستان کی حفاظت و سالمےت کے لئے بہانے سے گرےز نہےں کرےں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ آج ہم نے ےہ فےصلہ کرنا ہے کہ اس ملک نے تو ہمےں بہت کچھ دےا ہے لےکن ہم نے اس ملک پاکستان کو کےا دےا۔ اُنہوں نے کہا کہ آج ملک دشمن عناصر وطن عزےز پاکستان کے خلاف سازشےں کررہے ہےں۔ ہم نے ہر حال مےں ان سازشوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے مجےد نظامی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ملک دشمن عناصر کو بے نقاب کرنا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کے دشمن سازشےں کرتے رہے لےکن مسلم لےگ کے قائد مےاں محمد نواز شرےف نے امرےکی صدر بل کلنٹن کی دھمکےوں کے باوجود پانچ اےٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو عالم اسلام کی سب سے پہلی اےٹمی طاقت بنا دےا۔ اُنہوں نے نوجوانوں کو نصےحت کی کہ آپ ہر قسم کی تعلےم حاصل کرےں لےکن اس کے ساتھ آپ نظرےہ¿ پاکستان سے بھی بھرپور آگہی حاصل کرےں جس کی بنےاد پر ےہ ملک معرضِ وجود مےں آےا۔ اُنہوں نے کہا کہ مجھے نوجوانوں کی آنکھوں کی چمک بتاتی ہے کہ ان مےں محمد مالک شہےد کی روح موجود ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمےں نوجوانوں مےں سے جنرل اےوب‘ جنرل ےحےیٰ اور جنرل پروےز مشرف جےسے ڈکٹےٹر نہےں چاہئےں بلکہ ڈاکٹر عبدالقدےر خان‘ ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور مجےد نظامی جےسے رہنما چاہئےں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمےں ملک دشمنوں سے اس طرح بات کرنا چاہئے جس طرح ایرانی صدر احمدی نژاد امرےکہ سے بات کرتا ہے کہ اگر تم ہمارے ایٹمی پلانٹ پر حملہ کروگے تو ہم تل ابیب پر حملہ کر دیں گے۔ اُنہوں نے کہا دشمنوں سے بات چےت نہےں بلکہ کھلم کھلا جنگ کرنی چاہئے۔ کشمےرلےنے کی بجائے ہمارے درےا خشک ہورہے ہےں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہندو بنےے کی ذہنےت ےہ ہے کہ اگر اس کے پاﺅں پڑےں گے تو وہ ٹھوکر مارے گا اور اگر اس کا گرےبان پکڑےں گے تو وہ پاﺅں مےں گرجائے گا۔ اُنہوں نے کہا کرپٹ لوگوں کی پاکستان مےں کوئی جگہ نہےں۔ اب فےصلہ ہوجانا چاہئے کہ ہماری سےاست پاکستان کے لئے ہونا چاہئے۔ مسلم سٹوڈنٹس فےڈرےشن کے مرکزی صدر و رکن صوبائی اسمبلی رانا محمد ارشد نے کہا کہ جب مسلمانانِ ہند آزادی کی تڑپ لے کر بڑھے تو انگرےز اور ہندو کہتے تھے کہ ےہ مسلمان کس طرح آزاد ہونگے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس پر آشوب دور مےں حمےد نظامی جےسے لوگ نوجوانوں کے رہنما تھے جنہوں نے قائداعظمؒ کی رہنمائی مےںمسلم لےگ کے ہر اول دستے کا کردار ادا کےا۔ اُنہوں نے کہا کہ مسلم لےگ کے پاس کوئی ہتھےار نہےں تھے لےکن ان کے پاس اےک سوچ‘ اےک نظرےہ اور اےک وےژن تھا جس کے تحت مسلمان اپنے عظےم مقصد مےں کامےاب ہوئے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب 23 مارچ 1940ءکو قرارداد پاکستان منظور ہوئی تو اسی روز پاکستان معرضِ وجود مےں آگےا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ 16 دسمبر 1971ءکو مشرقی پاکستان کی علےحدگی ان سےاسی جماعتوں کی ہوس کا نتےجہ تھا جو اقتدار کے حصول کے لئے آخری حد تک جانے پر تےار تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم مجےد نظامی کی قےادت مےں متحد و متفق ہےں اور اب ہم انشاءاللہ پاکستان پر کبھی کوئی آنچ نہےں آنے دےں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم امرےکہ کو ےہ بتا دےنا چاہتے ہےں کہ تم پاکستان کا کچھ نہےں بگاڑ سکتے کےونکہ ےہ ملک اسلام کے نام پر معرض وجود مےں آےا تھا اور اب ہم اس کے محافظ ہےں۔ اُنہوں نے کہا کہ مجےد نظامی کی قےادت مےں کشمےر آزاد ہوکر پاکستان کا حصہ بنے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمےں نظرےہ¿ پاکستان کو پورے ملک مےں فروغ دےنا ہوگا کےونکہ ےہی نظرےہ پاکستان کے استحکام‘ اس کے دفاع اور اس کی ترقی کا ضامن ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ہم صدر پاکستان سے مطالبہ کرتے ہےں کہ پاکستان مےں امرےکہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت کو روکےں اور بھارت سے دوٹوک لہجے مےں بات کرےں۔ اگر آپ اےسا نہےں کرسکتے تو پھر آپ کو صدر مملکت کے عہدے پر فائز رہنے کا کوئی حق نہےں۔ مسلم لےگ ےوتھ ونگ کے رہنما غلام حسےن شاہد نے کہا کہ تحرےک پاکستان کے دوران مسلم سٹوڈنٹس فےڈرےشن نے مسلم لےگ کے پےغام کو قرےہ قرےہ گاﺅں گاﺅں پہنچاےا اور اس کی بدولت پاکستان معرضِ وجود مےں آےا اور آج پاکستان کی حفاظت کے لئے ہمےں پھر اسی جذبے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کلمہ طےبہ کی بنےاد پر بنا لہٰذا پاکستان کی بات کرنابھی عبادت ہے اور اس کی خدمت کرنا بھی عبادت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارا سب کچھ پاکستان سے وابستہ ہے۔ علامہ محمد اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے علاوہ ہمیں کسی اور نظرےئے کی ہرگز ضرورت نہےں۔ تقرےب کا اختتام پاکستان‘ قائداعظمؒ، علامہ محمد اقبالؒ، مادرِ ملتؒ اور مسلم لےگ زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے ہوا۔