بلدیاتی انتخابات پنجاب میں امن کی صورتحال دیکھ کر کرائیں گے: رانا ثناء

لاہور (خصوصی رپورٹر) صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثناءاﷲ خاں نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا رواں اجلاس تین ہفتہ جاری رہے گاجس میں متعدد اہم بلز پیش کئے جائیں گے۔ لوکل باڈی ایکٹ کا ترمیمی بل اسمبلی میں پیش کرنے سے قبل کابینہ سے منظور کرایا جائے گا۔ گذشتہ روز اجلاس سے قبل احاطہ پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاﷲ نے کہا کہ جن بلز پر سٹینڈنگ کمیٹیوں سے رپوٹس موصول ہوچکی ہیں یا دوران اجلاس موصول ہوں گی، ان پر قانون سازی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں پنجاب اربن اموویبل پراپرٹی ٹیکس ترمیمی آرڈنینس برائے 2010ءپیش کیا جائے گا جبکہ چار بلز پنجاب منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن ترمیمی بل،سستی روٹی اتھارٹی بل، پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ فارانفر اسٹرکچر بل اور پنجاب دانش سکولز اینڈ سینٹرز آف ایکسیلنس اتھارٹی بل منظوری کے لئے پیش کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ کابینہ کی منظوری کے بعد 11 بلوں پر ہاﺅس میں غور کیا جائے گا‘ ان میں ویمن یونیورسٹی ملتان، ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹرنینگ اتھارٹی، پنجاب ایگزامینیشن کمشن، پنجاب پرائیویٹائزیشن بورڈ، پنجاب لوکل گورنمنٹ ترمیمی، پنجاب لینڈ ریونیو ترمیمی بل 2010ئ، فارسٹ ترمیمی، لینڈ ایکویزیشن ترمیمی، پنجاب کنفرمیٹ آف پروپرائیٹری رائٹس آن آکو پینسی ٹیننٹس بل 2010ئ، ڈرامیٹک پرفارمینس اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی ترمیمی بل شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کو عوام دوست بنانے کے لئے پیر سے چار روزہ بحث کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وقفہ سوالات کے دوران پوائنٹ آف آرڈرز اور تحاریک التوائے کار پر بحث نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف زرداری کا دورہ پنجاب بطور صدر نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کی حیثیت سے تھا۔ صدر کے دو عہدے رکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے‘ ہم استعفیٰ کا مطالبہ نہیں کرتے تاہم وہ مناسب سمجھیں تو پارٹی عہدہ چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا کہ بلخ شیر کھوسہ سے برآمد ہونے والی شراب گورنر ہا¶س سے دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ راجہ ریاض کو بتا دیا ہے کہ کسی فرد واحد کے حق میں پنجاب اسمبلی سے قرارداد کی حمایت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کے بعد ناظمین کو فارغ کر دیا جائے گا اور ان کی جگہ ایڈمنسٹریٹرز تعینات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جلد از جلد بلدیاتی انتخابات کرانا چاہتے ہیں لیکن اس سے قبل صوبے میں امن و امان کی صورتحال بھی دیکھی جائے گی۔