قائداعظمؒ کی اہلیہ مریم جناح کی سالگرہ اور برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی

قائداعظمؒ کی اہلیہ مریم جناح کی سالگرہ اور برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی

لاہور (رپورٹ: رفیعہ ناہید اکرام) بانی پاکستان کی اہلیہ محترمہ مریم جناح کی113ویں سالگرہ اور 84 ویں برسی گزشتہ ر وزعقیدت واحترام سے منائی گئی۔ وہ 20فروری 1900ءکو پیدا ہوئیں اور 20فروری 1929 کو 29برس کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔ انہوں نے 17برس کی عمر میں اسلام قبول کیا ان کا اسلامی نام مریم رکھا گیا۔ 1918ءمیں 18برس کی عمر میں ان کی شادی قائد اعظم ؒ سے ہوئی۔ قبول اسلام سے قبل رتن بائی کے نام سے مشہور تھیں گھر والے انہیں پیار سے رتی کہتے۔ وہ بمبئی کے ممتاز تاجر اور قانون ساز اسمبلی کے رکن سر ڈنشا پیٹٹ کی صاحبزادی تھیں جن کی پرورش نازونعم کے ماحول میں ہوئی۔ مریم جناح کی شخصیت کا خاص پہلو ان کی حاضرجوابی، خوش خلقی اور خوش گفتاری تھی، انکے سامنے گفتگو کرنا آسان نہ تھا۔مسز جناح اپنے شوہر محمد علی جناح ؒ کو ”جے“ کہہ کر مخاطب کرتیں۔ شریف الدین پیرزادہ نے لکھا ہے کہ گورنروں اور وائسراو¿ں تک کی بیگمات محترمہ مریم جناح کے ملبوسات اور زیورات کی وجہ سے ان سے حسد کرتیں، انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو صرف شوہر کے مکان تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ عدالت کے احاطے میں جاکر قائداعظمؒ کے دفتر کو بھی نیا رنگ روپ دے دیا۔ 1919ءمیں ان کے ہاں ایک بیٹی دینا جناح پیدا ہوئیں۔ اگست 1928ءمیں جب قائد اعظمؒ آئر لینڈ میں تھے تو انہیں اپنی اہلیہ کی بیماری کی اطلاع ملی وہ فوراً پیرس پہنچ گئے اور انہیں کلینک میں داخل کروایا جس سے مسز جناح کی طبیعت سنبھلنے لگی۔ جنوری 1929ءمیں وہ پھر بیمار ہوگئیں اور چند ہفتوں بعد اپنی 29ویں سالگرہ کے روز انتقال کرگئیں۔ قائد اعظمؒ نے ان کی تدفین اسلامی طریقے سے کرنے کا انتظام کیا اور قبر میں اتر کر انکے چہرے کو قبلہ روکیا۔ بعدازاں انکی قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے قائد ؒ کے ضبط کا دامن چھوٹ گیا اور وہ دیر تک پھوٹ پھوٹ کر روتے رہے۔ بابائے قوم اپنی اہلیہ کی وفات کا صدمہ زندگی کے آخری لمحات تک فراموش نہ کر سکے۔