ریکوڈک، گوادر معاہدے پر گورنر نے دستخط کئے، کس صوبائی مختاری کی بات کی جاتی ہے: اختر مینگل

لاہور (این این آئی) سابق وزیراعلیٰ و بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سردار اختر مینگل نے کہا ہے ریکوڈک اور گوادر کے معاہدے میں وفاق کے نمائندے گورنر نے دستخط کئے اسکے بعد کس صوبائی مختاری کی بات کی جاتی ہے ؟ بلوچستان اس وقت حالت جنگ میں ہے اور ایسے حالات میں الیکشن نہیں ¾ سلیکشن ہو گی‘ حکومت بتائے ہزاروں کا لا پتہ ہونا اور مسخ شدہ لاشوں کا ملنا بھی بلوچستان پیکج میں شامل ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سردار مینگل نے کہا بلوچستان کی حکومت چاہے کرپٹ اور نا اہل تھی لیکن وہ بلوچستان میں کئے جانےوالے حالیہ معاہدوں میں رکاوٹ تھی۔ صوبائی خود مختاری کی بات کی جاتی ہے ریکوڈک اور گوادر معاہدے میں کس کا نمائندہ موجود تھا؟ بدقسمتی سے حکمران تصویر کا ایک رُخ دکھاتے ہیں جو بڑے خوشگوار رنگوں سے بھرا پڑا ہے لیکن ہزاروں لا پتہ افراد‘ مسخ شدہ لاشوں کا ملنا کس دور میں ہو رہا ہے کیا یہ بھی بلوچستان پیکج کا حصہ ہے۔ جب تک بلوچستان میں لاپتہ افراد کو بازیاب اور مسخ شدہ لاشوں کے ملنا کا سلسلہ بند نہیں ہوتا کم از کم کوئی قوم پرست ووٹ مانگنے کےلئے نہیں جا سکتا۔ آج تک بلوچستان کو صوبہ تسلیم ہی نہیں کیا گیا بلکہ اسے ایک کالونی کی طرح سمجھا گیا ہے اور گزشتہ پینسٹھ سال کے ایکشن اسکے ثبوت ہیں ۔