ابھی صدارتی انتخاب نہیں ہو رہے‘ رولز اور قانون کے ذریعے آئین میں ترمیم نہیں کی جا سکتی : ہائیکورٹ

ابھی صدارتی انتخاب نہیں ہو رہے‘ رولز اور قانون کے ذریعے آئین میں ترمیم نہیں کی جا سکتی : ہائیکورٹ

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے صدارتی الیکشن رولز 1988ءکے سیکشن 5 (3)اے میں ترمیم کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت آج 21فروری تک ملتوی کرتے ہوئے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو طلب کر لیا۔ درخواست گذار نے عدالت میں بحث کرتے ہوئے بتایا کہ 2007ءمیں چیف الیکشن کمیشن کی طرف سے صدارتی الیکشن رولز میں کی گئی ترمیم آئین کے منافی ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے صدر پاکستان کے الیکشن کے لیے آرٹیکل 63 کا اطلاق ختم کر دیا گیا جو آئین کو توڑنے کے مترادف ہے۔ آرٹیکل 41 کے تحت صدر پاکستان کا الیکشن وہ شخص لڑ سکتا ہے جو ممبر پارلیمنٹ کے اہلیت اور نااہلیت کے معیار پر پورا اترتا ہو۔ اہلیت اور نا اہلیت آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 میں دی گئی ہے۔ 2007ءمیں مشرف صدر کا الیکشن لڑنا چاہتے تھے اور اُس وقت دوسرے عہدے کو رکھنے کےلئے جاری کئے گئے آرڈیننس کی مدت ختم ہو رہی تھی۔ اگر مشرف دوبارہ الیکشن لڑتے تو وہ آئین کے آرٹیکل 63(1) (ڈی) کے تحت الیکشن نہیں لڑ سکتے تھے۔ چیف الیکشن کمیشن نے صدارتی الیکشن رولز 1988 میں ترمیم کرکے آئین کو توڑا اور صدر کے الیکشن کے لیے نااہلیت کو ختم کر دیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ابھی صدر کے الیکشن نہیں ہو رہے کسی بھی رولز اور قانون کے ذریعے آئین پاکستان میں ترمیم نہیں کی جاسکتی۔ اگر کوئی ایسا رول یا قانون موجود بھی ہے تو وہ آئین کے تحت کالعدم تصور ہو گا جب صدارتی الیکشن آئیں گے تو اِس کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ اپیل کنندہ نے عدالت کو بتایا کہ یہ ترمیم قانون کی کتاب میں موجود ہے جس کو نہیں رہنا چاہئے۔ اُس وقت کے سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے اخبارات میں بیان دیا تھا کہ آرٹیکل 63 کا اطلاق صدر کے الیکشن میں نہیں ہوگا جبکہ اعلیٰ عدالتیں ایم پی خان خان کیس، آفتاب شعبان میرانی کیس، میاں شہباز شریف اور وطن پارٹی کیس میں یہ اصول متعین کر چکی ہے کہ صدر کے الیکشن کے لیے آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق ہو گا۔ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالتِ عالیہ کو اس نوٹیفکیشن کو کالعدم کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت کی مزید معاونت کریں کہ اگر صدر کے الیکشن ابھی نہیں ہو رہے تو کیا اس ترمیم کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ مسٹرجسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ تو الیکشن کمشن سے پوچھنا چاہئے اِس لئے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرکے کل بلا لیتے ہیں کہ کیا آئین کے آرٹیکل 63 کا صدارتی الیکشن میں اطلاق ہو گا؟ کیونکہ ایک پارلیمنٹیرین کی اہلیت رکھنے والا ہی صدر کا الیکشن لڑ سکتا ہے اور جب اہلیت کی بات ہوگی تو نا اہلیت کو بھی ساتھ دیکھا جائیگا۔ الیکشن لڑنے کیلئے آرٹیکل 62 اور 63 دونوں کا اطلاق ہو گا۔