گریڈ 17 : 41 کسٹم سپرنٹنڈنٹس میں سے صرف 5 کو ترقی دیکر ٹرخا دیا

لاہور (سید شعیب الدین سے) ایف بی آر کی اعلیٰ اسٹیبلشمنٹ نے ایک بار پھر براہ راست آنے والے کسٹم افسران کو ’’تحفظ‘‘ دینے کیلئے کسٹم سپرنٹنڈنٹوں کی گریڈ 17 میں ترقی کے معاملے کو صرف 5 افسران کی ترقی پر ٹرخا دیا۔ 25 سپرنٹنڈنٹوں کو ترقی دینے کیلئے 41 افسران کی فائلیں منگوائی گئی تھیں مگر پھر ’’کسٹم بیوروکریسی‘‘ جاگ اٹھی اور ان افسران کو بھی گریڈ 17 نہیں دیا جو کسٹم سروس میں نئے بھرتی ہونے والوں کیلئے کوئی خطرہ نہیں تھے اور اگر 25 سپرنٹنڈنٹوں کو ترقی دے بھی دی جاتی تو یہ تمام صرف 2 سال کی مدت میں ریٹائر ہو جاتے۔ کسٹم ذرائع کے مطابق 1986-87ء میں 31 کسٹم سپرنٹنڈنٹوں کو گریڈ 17 میں ترقی دی گئی تھی جبکہ 2003ء میں 21 سپرنٹنڈنٹوں کو گریڈ 17 میں ترقی دی گئی۔ 12 سال بعد کسٹم سپرنٹنڈنٹوں کو ترقی دینے کا معاملہ سامنے آیا تو 41 افسران کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پر مشتمل فائلیں مانگی گئیں۔ جن میں 25 کسٹم سپرنٹنڈنٹ‘ 6 پرنسپل آپریزر‘ 6 سپرنٹنڈنٹ پریوینٹو سروس اور 4 پی اے ویلیوایشن تھے۔ اسی بارے پہلی چٹھی چیف کسٹم منیجمنٹ اسٹیبلشمنٹ کو لکھی لیکن کسٹم سروس کے اعلیٰ افسران نے بیچ میں ٹانگ اڑائی اور اس قدر افسران کو ترقی دینے سے انکار کیا اور جواز پیش کیا کہ آئندہ سال میں کسٹم سروس میں 13 اسسٹنٹ کلکٹرز کو بھرتی کیا جائے گا۔ یہ بھرتی ہونے والے افسر تربیت لے کر 3 سال بعد کسٹم دفاتر میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے جبکہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پاکستان بھر میں اسسٹنٹ کلکٹرز کی قلت ہے۔ گذشتہ سال سول سروس کا امتحان پاس کر کے آنے والوں میں صرف 2 افسر کسٹم سروس میں شامل ہوئے۔ گذشتہ سال ہونے والی کلکٹر کانفرنس میں کام کی رفتار سست ہونے کا جواز اسسٹنٹ کلکٹرز کی کمی کو بنایا گیا تھا مگر اس کے باوجود ’’کسٹم بیوروکریسی‘‘ ساری عمر محکمے کو دے کر ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچنے والے سپرنٹنڈنٹس‘ پرنسپل افسران کو گریڈ 17 میں ترقی دے کر باعزت ریٹائرمنٹ کا موقع دینے پر تیار نہیں۔ کسٹم ذرائع کے مطابق کم از کم گریڈ 16 کے کم از کم 50 سپرٹنڈنٹوں اور پرنسپل افسران کو ترقی بھی دیدی جائے تو یہ لوگ 2018ء تک ریٹائر ہو جائیں گے مگر ’’کسٹم بیوروکریسی‘‘ کو کام کی رفتار سست رکھنا قبول ہے مگر ’’ماتحتوں‘‘ کو ساتھ بٹھانا قبول نہیں۔