چین کیساتھ بجلی کے بڑے معاہدوں کیلئے شہباز شریف کی کوششوں کا بڑا عمل دخل ہے

چین کیساتھ بجلی کے بڑے معاہدوں کیلئے شہباز شریف کی کوششوں کا بڑا عمل دخل ہے

لاہور(ساجد ضیا/نیشن رپورٹ) چینی حکومت اور کمپنیوں کے ساتھ بجلی کے بڑے معاہدوں کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی کوششوں کا بڑا عمل دخل ہے۔ ان منصوبوں کا آغاز وزیراعظم نوازشریف اور ان کی ٹیم نے جنوری 2014ءمیں بیجنگ کے دورے کے دوران کیا تھا۔ شہباز شریف کی کوششوں کا ثمر ہے کہ پاکستان اور چین کا تجارتی اور معاشی تعاون اب عالمی سیاسی صورتحال کے تناظر میں سٹریٹجک پارٹنرشپ کی صورت اختیار کرگیا ہے جس کی خطے کی صورتحال میں بڑی اہمیت ہے۔ وزیراعظم کے دورے کے دوران انرجی کے شعبہ میں بڑی سرمایہ کاری، اقتصادی راہداری، گوادر پورٹ کو آپریشنل کرنے اور میٹرو ٹرین پر بنیادی کام ہوگیا تھا۔ تاہم ان منصوبوں پر مستقبل میں بڑا کام ہونا باقی تھا اور یہ شہباز شریف تھے جنہوں نے فالو اپ کے طور پر انتھک محنت شروع کی وزیراعلیٰ نے وزیر پانی و بجلی سے بھی بڑھ کر دلچسپی کا مظاہرہ کیا اختیارات سنبھالنے کے بعد شہباز شریف نے چین کے 6 دورے کیے اور وہاں چینی حکام اور افسران سے ملاقاتیں کیں۔ شہباز شریف نے الیکشن سے قبل 6 ماہ یا ایک سال میں بجلی کے بحران کے خاتمے کی بات کررکھی تھی اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری اور ہدف کے حصول کیلئے کوششیں جاری رکھیں۔ میٹرو ٹرین پر بھی شہباز شریف نے انتھک محنت کی۔ یہ منصوبہ آغاز میں 1.6 ارب ڈالر کا تھا جو بعد میں 3 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ توانائی اور اقتصادی حوالے سے ان کی کارکردگی متاثر کن رہی۔ شہباز شریف کی دعوت پر ہی چینی وفود نے پاکستان کے دورے کیے اور چین کے ساتھ آخر کار 14000 میگاواٹ کے سمجھوتے طے پائے۔