پنجاب کی خواتین سکول ٹیچرز لاتعداد مسائل کا شکار ہیں

لاہور (رفیعہ ناہید اکرام) صوبے میں فروغ تعلیم کی کاوشیں اپنی جگہ مگرپنجاب کی خواتین سکول ٹیچرز آج بھی لاتعداد مسائل کا شکار ہیں، سکولوں میں بچوںکی حاضری کی شرح اور نتائج بہتر بنانے ودیگر اقدامات پرعملدرآمد کے دوران اعلیٰ افسران کی جھڑکیاںدھمکیاںاورتوہین آمیزکلمات برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ویڈلاک پالیسی پرعملدرآمد کیلئے تین برس کی پابندی ذہنی اذیت کاسبب ہے جبکہ میٹرنٹی لیوبھی بروقت نہیں ملتی ، سکولوںمیں چارماہ تک کابچہ ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں اور ڈے کئرسنٹرزتاحال موجودنہیں ، ریٹائرمنٹ کانوٹیفیکشن کلرکوںکی جیبیں گرم کئے بغیرحاصل نہیں ہوتا سکولوںکی چاردیواری نہ ہونے سے خواتین اساتذہ اورطالبات غیرمحفوظ ہیں نوائے وقت سے گفتگومیں پنجاب ٹیچرزیونین کی عہدیداران مبینہ اور فوزیہ نے بتایاکہ ٹھنڈے کمروںمیں بیٹھ کرپالیسیاںبنانے والے صوبے کے دوردرازکی خاتون ٹیچرکے مسائل نہیں سمجھ سکتے، میٹرنٹی لیوکیلئے ہرٹیچرسروسزہسپتال سے میڈیکل سرٹیفیکٹ نہیںلاسکتی جس کی وجہ سے بروقت چھٹی نہیں ملتی اور کنوینس الاؤنس کاٹ لیا جاتا ہے۔ سحر نقوی اور فرخندہ بلوچ نے کہاکہ حکومت خواتین اساتذہ کے مسائل پربھی توجہ دے ، دوردرازعلاقوںمیں تعینات اساتذہ کوسکیورٹی فراہم کی جائے ہائی سکولوںکی طرح پرائمری اور مڈل سکولوںمیں بھی کلرک تعینات کئے جائیں،خالی اسامیوںکوپر کیا جائے۔