میو ہسپتال میں طبی سہولیات ناپید‘ اینڈوسکوپی‘ اینجیوگرافی‘ نیفرالوجی مشینیں خراب

لاہور (ندیم بسرا) پنجاب کے سب سے بڑے میو ہسپتال میں مریضوں کو مکمل طبی سہولتیں دستیاب نہیں۔ مفت ادویات کی بجائے غریب مریض بازار سے ادویات خریدنے پر مجبور ہو گئے، اینڈو سکوپی، اینجوگرافی، نیفرالوجی کی مشینیں خراب ہو گئیں۔ انتظامیہ کی عدم توجہ سے مخیر حضرات کی امداد بھی بند ہونے لگی۔ 24 سو بیڈز کے ہسپتال میں متعدد پروفیسرز کی کمی ہے جس میں بچہ سرجری، کارڈیک سرجری، نیوروسرجری، اس کے ساتھ ٹرینی ڈاکٹرز کی بھی شدید کمی ہے۔ مریضوں کو 30 فیصد مفت ادویات فراہم کی جاتی ہیں مگر داخل مریضوں کے ٹیسٹ فری نہیں کئے جاتے۔ ایمرجنسی میں دل کے مریضوں کو کور نہیں دیا جاتا۔ ایمرجنسی میں ایک ہی سی ٹی سکین مشین ہے جبکہ 128 سلائیڈ کی جدید ترین سی ٹی سکین مشین لگانے کے صرف دعوے ہی ہیں۔ خواتین کے بریسٹ کینسر کی تشیخص کے میموگرافی مشین پر مفت ٹیسٹ نہیں کئے جاتے۔ ہسپتال کا ڈیٹا اور مریضوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کے لئے 60 ملین روپے کا پراجیکٹ شروع نہیں ہو سکا۔ سرجیکل ٹاور کا منصوبہ گزشتہ 9برسوں سے مکمل نہ ہوا۔ تعمیر مکمل ہو جاتی تو ہسپتال میں 580 بیڈز کا اضافہ‘ 60 نئے آپریشن تھیٹرز دستیاب ہوتے مگر اس طرف توجہ نہیں دی جا رہی۔ ساؤتھ میڈیکل وارڈ گرنے کے قریب ہے۔ نارتھ میڈیکل وارڈ کو 5 برس میں خالی کروایا گیا مگر اس کو تاحال گرایا نہیں گیا۔ محکمہ صحت پنجاب کے مطابق مفت ادویات کی فراہمی کے احکامات وزیراعلیٰ پنجاب نے دیئے۔ شکایا ت کے حوالے سے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں جو تمام ہسپتالوں کا ریکارڈ اکٹھا کر رہی ہیں۔