پولیس خود ملزم نامزد ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تفتیش نہیں کر سکتی: قانونی ماہرین

لاہور (ایف ایچ شہزاد سے) سانحہ ماڈل ٹاؤن میں پولیس قانونی طور پر تفتیش کرنے کا اختیار نہیں رکھتی کیونکہ جاں بحق ہونے والے تمام اشخاص کے ورثاء نے اپنی درخواست میں پولیس کو بھی نامزد ملزمان میں رکھا ہے۔ ماہرین قانون کے مطابق اگر ضابطہ فوجداری کے سیکشن 154 پر عمل کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے ورثاء کی طرف سے مقدمہ درج کر لیا جاتا ہے تو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم اس مقدمے کی تفتیش کرے گی۔ جس میں آئی ایس آئی، ایم آئی اور ایف آئی اے سمیت دیگر ایجنسیوں کے افسر شامل ہو سکتے ہیں۔ وقوعے کی دوسری ایف آئی آر درج کرنے کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ قانون میں اس بارے کوئی قدغن نہیں، بے نظیر بھٹو قتل کیس اس کی مثال ہے۔ اگر پولیس نے جاں بحق افراد کے ورثاء کی مدعیت میں مقدمہ درج نہ کیا تو اس کے خلاف ضابطہ فوجداری کے سیکشن 22 اے 22 جی کے تحت سیشن کورٹ اور آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ بیریئر ہٹانے کے معاملے پر توہین عدالت کی درخواست بھی دائر ہو سکتی ہے۔ دستیاب شہادتوں اور واقعات کا جائزہ لیا جائے تو قانونی حلقے پولیس اور حکومت کی قانونی پوزیشن کو کمزور قرار دے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل محمد اظہر صدیق کا کہنا ہے کہ ہائیکورٹ کا جوڈیشل ٹربیونل انکوائری کے دوران چیف ا یگزیکٹو کو کام سے روکنے کا اختیار رکھتا ہے جبکہ پولیس کے پاس مخالف فریق کی طرف سے درخواست دینے پر مقدمہ درج نہ کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں۔