پنجاب اسمبلی : سانحہ ماڈل ٹائون پر اپوزیشن کا احتجاج جاری‘ واک آئوٹ جوڈیشنل کمشن مسترد کر دی

پنجاب اسمبلی : سانحہ ماڈل ٹائون پر اپوزیشن کا احتجاج جاری‘ واک آئوٹ جوڈیشنل کمشن مسترد کر دی

لاہور (خصوصی رپورٹر + خبر نگار+ نیوز رپورٹر+ سپیشل رپورٹر+ خصوصی نامہ نگار+ سٹی رپورٹر+ کامرس رپورٹر) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن نے منہاج القرآن سیکرٹریٹ پر پولیس ایکشن کے خلاف تیسرے روز بھی واک آئوٹ کیا اور وزیراعلی پنجاب اور رانا ثناء اللہ کے استعفے، حکومت کے قوم سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا۔ تاہم سپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے بھجوائے جانے والے 4 رکنی وزراء کے وفد کے منانے کے بعد واک آئوٹ ختم کرکے ایوان میں واپس آ گئے۔ بجٹ پر بحث کے دوران محمود الرشید نے کہا کہ لاہور میں جو واقعہ رونما ہوا اس پردیگر اسمبلیوں میں بحث ہو رہی ہے جبکہ ہم نے توجہ دلائو نوٹس جمع کرایا ہے لیکن اس پر ابھی تک کچھ نہیں کیا گیا۔ ایک جانب صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے ایوان میں کہا ہے کہ جوڈیشل کمشن بنا دیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب طاہر القادری کے بیٹے سمیت 3 ہزار افراد پر دہشت گردی کا مقدمہ قائم کر دیا گیا اور بعد میں ان کے بیٹے کا نام پرچے سے نکال دیا گیا۔ اس سانحہ میں 11 افراد مر گئے ہم روٹین کی کارروائی کر رہے ہیں یہ پورے صوبے کے امن و امان کا مسئلہ ہے۔ سپیکر رانا محمد اقبال خان نے کہا کہ توجہ دلائو نوٹس اور کال اٹینشن نوٹس رولز کے مطابق لائے جا سکتے ہیں اس وقت بجٹ پر بحث ہو رہی ہے جسے وزیر خزانہ نے سمیٹنا ہے لہذا کوئی اور معاملہ زیر غور نہیں لایا جا سکتا۔ اس پر اپوزیشن ارکان نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور بیک وقت اونچی آواز میں بولنا شروع کر دیا جس سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ میاں محمود الرشید نے کہا کہ 3 ہزار افراد پر دہشت گردی کا پرچہ درج کر دیا پھر کہتے ہیں کہ ندامت کے اظہار کے لئے منہاج القرآن جائیں گے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے جوڈیشل کمشن قائم کیاگیا تو پھر پولیس افسروں کو کیوں معطل کیا گیا۔ ہمیں جوڈیشل کمشن پر اعتبار نہیں ہے پہلے پنڈی واقعہ، سیلاب سمیت دیگر کئی معاملات پر جوڈیشل کمشن بنے اور کچھ نہیں ہوا۔ صوبائی وزیر ملک ندیم کامران نے کہا کہ ماڈل ٹائون واقعہ پر جتنے احساسات اپوزیشن کے ہیں اتنے ہی ہمارے ہیں اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کابینہ کا ہنگامی اجلاس 3 گھنٹے جاری رہا جس میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں کی نااہلی اور غفلت سامنے آئی ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ وزیر قانون اس لئے ایوان میں نہیں آئے کیونکہ وزیراعظم نواز شریف نے اعلی سطح کا اجلاس طلب کیا ہے۔ تاہم اپوزیشن ارکان لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی کے نعرے لگاتے اور سپیکر سے مطالبہ کرتے رہے کہ وہ رولز معطل کرکے ماڈل ٹائون واقعہ پر بحث کرائیں جس پر سپیکر نے دو ٹوک کہا کہ رولز کے مطابق صرف بجٹ پر بحث ہو گی اس کے سوا کوئی اور بات نہیں ہو گی اور وہ اپوزیشن ارکان کو بار بار تلقین کرتے رہے کہ وہ بجٹ پر بحث میں شامل ہوں اسمبلی کے ماحول کو خراب نہ کریں۔ ملک ندیم کامران نے کہا کہ اگر اپوزیشن رولز معطل کرانا چاہتی ہے تو یہ معاملہ ایوان میں پیش کرے اور اس پر ووٹنگ کروائی جائے لیکن اپوزیشن نے اصرار جاری رکھا۔ سپیکر نے کہا کہ جب میرے پاس توجہ دلائو نوٹس آئے گا تو دیکھوں گا۔ صبح وزیر قانون آ جائیں گے تو توجہ دلائو نوٹس کا معاملہ حل کریں گے۔ دوسری جانب وزیر خزانہ میاں مجتبٰی شجاع الرحمٰن نے بجٹ پر بحث مکمل ہونے کے بعد خطاب میں کہا کہ صوبے کے قرضوں میں 6 برس کے دوران 30 فیصد کمی آئی ہے، بجلی کا بحران حکومت کی اولین ترجیح ہے اور پنجاب میں سولر پارک کا قیام بھی عوام کو اندھیروں سے نکالنے کے لئے ہے، پینے کے صاف پانی کے منصوبوں پر 15 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے، اپوزیشن بجٹ سیشن کے دوران زیادہ وقت نعرے بازی میں ضائع کرتی رہی ہے۔ آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کے لئے آئندہ سال 1 ارب 50 کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے، تعلیم کے بجٹ میں 29.13 فیصد اضافہ کیا ہے۔ قبل ازیں بحث کے دوران سرکاری ارکان نے بجٹ کو سراہنے اور وزیراعلیٰ پنجاب کی کامیابیوں پر مبارکباد کا سلسلہ جاری رکھا جبکہ اپوزیشن نے بجٹ پر شدید تنقید کرتی رہی۔