سانحہ لاہور کی تحقیقات مکمل ہونے تک وزیراعلیٰ، وزیر قانون عہدے چھوڑ دیں: ملی یکجہتی کونسل

لاہور (ثناء نیوز+ خصوصی نامہ نگار) ملی یکجہتی کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ سانحہ لاہور کی تحقیقات مکمل ہونے تک وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف اور صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان اپنے عہدے عارضی طور پر چھوڑ دیں تا کہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہو سکیں۔ منصورہ میں ملی یکجہتی کونسل کے اجلاس کے بعد تنظیم کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن انتہائی المناک ہے۔ ہم عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری اور اس سانحہ میں جاں بحق ہونے والے منہاج القرآن کے کارکنوں کے ورثاء سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور جاں بحق افراد کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لئے دعا گو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک مسلسل دہشت گردی کا شکار ہے کسی کو جان وما ل کا تحفظ نہیں ہے۔ ملی یکجہتی کونسل نے ماڈل ٹائون میں منہاج القرآن کے کارکنوں پر بدترین پولیس گردی اور معصوم لوگوں کی ہلاکتوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے آج (جمعہ) 20 مئی کو ملک بھر کی مساجد میں خطابات جمعہ میں اس واقعہ کی پرزور مذمت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ شریف برادران نے اپنے دور اقتدار میں ہمیشہ پولیس اور سکیورٹی اداروں کو عوام کے خلاف استعمال کیا، حکومت نے پنجاب کو پولیس سٹیٹ بنا دیا۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ رکاوٹیں ہٹانے کے بہانے کسی تعلیمی مرکز پر چڑھ دوڑنا کسی صورت بھی قابل برداشت نہیں۔ علاوہ ازیں سنی اتحاد کونسل پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ارشد مصطفائی کے مطابق چیئرمین سنی اتحاد کونسل کی ہدایت پر سنی اتحاد کونسل سانحہ لاہور کے خلاف جمعہ 20 جون کو ملک گیر یوم احتجاج منائے گی۔ اس سلسلہ میں ملک بھر میں علمائے اہلسنت سانحہ لاہور کو خطبات جمعہ کا موضوع بنائیں گے۔ دریں اثناء جماعت اسلامی نے بھی سانحہ لاہور کے خلاف آج یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان لیاقت بلوچ نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ظلم کے خلاف ہم عوامی تحریک کے ساتھ ہیں۔