معیشت کی بحالی کیلئے لوٹی دولت واپس لائی جائے، وزیراعظم آغاز خود کریں: جماعت اسلامی

لاہور (خصوصی نامہ نگار) جماعت اسلامی کی صوبائی مجلس شوریٰ کا اجلاس صوبائی امیر ڈاکٹر سید وسیم اختر کی زیر صدارت منصورہ میں ہوا۔ اجلاس میں مہنگائی کے حوالے سے قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان وہ بدنصیب ملک بن گیا ہے جو مادی اور انسانی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود غربت، بے روزگاری، مہنگائی، توانائی کے بحران اور قرضوں کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس اس خدشے کا اظہار کرتا ہے کہ معیشت نہ چلی تو جمہوریت بھی نہیں چلے گی۔ اجلاس میں کہا گیا ہے کہ صرف چھ مہینے میں آٹا 50روپے فی کلو سے تجاوز کر گیا،آلو اور پیاز غریبوں کی سبزی تھی وہ بھی ان کی دسترس میں نہیں۔ پاکستان مہنگائی کے اعتبار سے ایشیائی ممالک کی 17 خراب ترین معیشتوں میں پہلے نمبر پر آ گیا۔ پاکستان میں 12کروڑ لوگ کام کرنے کے اہل ہیں۔ لیکن ان میں سے صرف 5کروڑ لوگوں کے پاس کسی بھی سطح کا کوئی روز گار موجود ہے ۔ بے روزگار نوجوانوں کی تعداد دو کروڑ ہے۔ مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ پاکستانی معیشت کی فوراً بحالی کے لئے سیاسی لیڈروں، صنعت کاروں، کاروباری حضرات اور بیوروکریٹس کی ملک سے لوٹی ہوئی ناجائز اور بیرون ملک بنک اکاﺅنٹس وغیرہ میں موجود اربوں ڈالر واپس لائے جائیں۔ جس کا آغازخود وزیر اعظم رضاکارانہ طور پر کریں۔ قومی اتفاق رائے پیدا کرکے کالاباغ ڈیم کا منصوبہ بھی ترجیحات میں شامل کرنا ضروری ہے۔ پانی کے ذریعے سے زیادہ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے تاکہ تیل سے پیدا ہونے والی مہنگی بجلی سے عوام کو بچایا جا سکے۔
جماعت اسلامی شوری