پنجاب یونیورسٹی: ہوسٹلوں سے غیرمتعلقہ افراد کو نکالنے کیلئے آپریشن کی تیاریاں مکمل

لاہور (میاں علی افضل) تعلیمی ماحول سازگار بنانے، سکیورٹی اقدامات بہتر بنانے، زیرتعلیم غیرملکی طالبعلموں کو تحفظ دینے، انتظامیہ کی رٹ یقینی بنانے کے لئے پنجاب یونیورسٹی کے ہوسٹلوں میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد اور طلبہ گروپ کے مبینہ اسلحہ بردار کارکنوں کے خلاف بھرپور آپریشن کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے سابق فوجی و پولیس آفیسر کو چیف سکیورٹی آفیسر مقرر کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی سکیورٹی کی جانب سے تمام یونیورسٹی ہوسٹلوں کی تلاشی بھی لی جائے گی۔ رکاوٹ ڈالنے والے افراد کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ لاہور پولیس نے مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔ کسی بھی مزاحمت کی صورتحال میں یونیورسٹی انتظامیہ پولیس کو متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی مکمل اجازت دے گی۔ واضح رہے کہ یونیورسٹی سے القاعدہ کے مبینہ ہمدرد کی گرفتاری کے بعد یونیورسٹی کے طلباءو طالبات شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ ان کی تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ یونیورسٹی میں اس وقت تقریباً 40کے قریب غیرملکی طالب علم زیرتعلیم ہیں۔ جبکہ ہوسٹلوں میں اس وقت 7ہزار کے قریب افراد رہائش پذیر ہیں۔ دریں اثناءپنجاب یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق گذشتہ رات پنجاب یونیورسٹی کے ہوسٹل میں مقیم کسی فرد کو حراست میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی ابھی کوئی آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے ہوسٹل میں کسی بھی آپریشن کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی وائس چانسلر پنجاب یونیورسی مجاہد کامران کی جانب سے کسی آپریشن کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ چند مسلح افراد کے خلاف کارروائی ضرور کی جائے گی۔