وکیل رہنما پر پولیس تشدد کیخلاف لاہور سمیت کئی شہروں میں عدالتی بائیکاٹ

 لاہور (اپنے نامہ نگار سے+ نامہ نگاران) رحیم یار خان میں وکیل رہنما پنجاب بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین ممتاز مصطفی پر پولیس تشدد کے خلاف وکلا نے گزشتہ روز لاہور سمیت کئی شہروں میں ہڑتال کرکے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا، ہڑتال کی کال پنجاب بار کونسل نے دی تھی۔ لاہور بار ایسوسی ایشن نے بھی ہڑتال کی جس کے باعث لاہور کی ماتحت عدالتوں میں 25 ہزار سے زائد زیر سماعت مقدمات و دعویٰ جات التوا کا شکار ہوئے جبکہ مختلف مقدمات میں ملوث 100 سے زائد ملزمان کی عبوری ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع ہوئی جبکہ مختلف مقدمات میں گرفتار جیلوں سے لائے گئے ملزموں کو عدالتوں نے آئندہ کی تاریخیں ڈال کر واپس جیل بھجوا دیا۔ تفصیلات کے مطابق رحیم یار خان پولیس نے پنجاب بار کونسل کے سابق چیئرمین ممتاز مصطفی کو بے جا تشدد کا نشانہ بنایا جس پر پنجاب بار کونسل کی کال پر لاہور کے وکلاءنے ڈی پی او رحیم یار خان کے روئیے کے خلاف ہڑتال کرکے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جس کے باعث ہزاروں کی تعداد میں سائلین مرد و خواتین کو انتہائی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ علاوہ ازیں لاہور بار ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سابق چیئرمین پنجاب بار کونسل کو تشدد کا نشانہ بنانے والے پولیس افسران کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لاتے ہوئے انہیں قرار واقعی سزا دے اور ڈی پی او رحیم یار خان کو فوری طور پر معطل کرکے اس کے خلاف انکوائری کروائی جائے وگرنہ وکلاءراست اقدام اٹھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے ہڑتال کی۔ ملزمان اور دیگر سائلین خوار ہوتے رہے، ہڑتال کے باعث سیشن کورٹس اور ضلع کچہری سنسان پڑی ہیں۔ پنڈی بھٹیاں سے نامہ نگار کے مطابق وکلا نے مکمل ہڑتال کی۔ ادھر جوہر آباد، ساہیوال، خوشاب، پاکپتن، چیچہ وطنی اور دیگر شہروں میں بھی وکلا نے عدالتی بائیکاٹ کیا اور عدالتوں میں پیش ہوئے۔