ڈونگی گراﺅنڈ بحال نہ کرنے پر وزیراعلی سمیت اعلی افسروں کیخلاف توہین عدالت کی درخواست

لاہور (وقائع نگار خصوصی) عدالتی احکامات کے باوجود ڈونگی گراﺅنڈ گلبرگ کو اصل شکل میں بحال نہ کرنے پر وزیر اعلی پنجاب سمیت اعلی افسران کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی۔ لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ کی طرف سے 16 ستمبر 2011ءکو دیئے گئے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے پر محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے توسط سے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ، ڈی سی او لاہور نور الامین مینگل، کمشنر لاہور جواد رفیق، ایم ڈی پنجاب انٹرٹینمنٹ کمپنی محی الدین وانی، سیکرٹری اطلاعات پنجاب اور ڈی جی پی ایچ اے محمود احمدکو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے 16ستمبر 2011ءکو لاہور ہائی کورٹ نے ڈونگی گراﺅنڈ پر تعمیرات کو ختم کر کے پارک بحال کرنے کا حکم اور عوام کے پیسے کو نقصان پہنچانے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت بھی کی تھی مگر ایک سال سے زائد عرصہ گذرنے کے باوجود ڈونگی گراﺅنڈ کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا گیا نہ ہی عوام کے کروڑوں روپے ضائع کرنے والے افراد کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی۔ تمام مدعا علیہان کو لیگل نوٹس کے ذریعے آگاہ کیا لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے مگر کسی بھی فرد نے اس خط کا جواب دیا نہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کیا گیا۔ 2004 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ پرویز الہیٰ نے ڈونگی گراﺅنڈ پر تھیٹر بنانے کی منظور ی دی تھی اس اقدام کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں 2آئینی درخواستیں دی گئی تھیں۔ شہباز شریف نے تھیٹر کی جگہ لائبریری بنانے کی منظوری دی جو توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے آرٹیکل 248اے کے تحت عدلیہ کا فیصلہ نہ ماننے اور اس پر عدم عملدرآمد پر توہین عدالت کی کارروائی سے کسی کو استثنا حاصل نہیں چاہے وہ وزیر اعلیٰ ہی کیوں نہ ہو۔ عدالت سے استدعا ہے وزیر اعلیٰ پنجاب اور دیگر افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شرو ع کر کے ان کو سزا دلوائی جائے۔