ملالہ!.... کیا لکھوں؟

صحافی  |  ریاض الرحمن ساغر

ملالہ! تجھ پہ کیا لِکھوں
اگر، صد مرحبا لِکھوں
تو یہ کم ہے بہت کم ہے
کمالِ انتہا لکھوں
تو پھر بھی دل یہ کہتا ہے
کہ کچھ اِس سے سِوا لکھوں
خدا منظور جو کر لے
میں وہ حرفِ دعا لِکھوں
وضو کر لوں جو اشکوں سے
تو اس دل کی صدا لِکھوں
جئے تُو اور بڑھے آگے
سُنائے سچ، سدا لِکھوں
تِرا چرچا ہے دنیا میں
تو میں کیا ماجرا لِکھوں
جُڑے پھر تیری سوچوں کا
جو ٹُوٹا، سلسلہ لکھوں
جلے جو ٹمٹمایا ہے
تِری رہ کا دِیا لِکھوں
ہو تیرا عزم پھر قائم
ہو اُونچا حوصلہ لکھوں
دکھائے امن کا پھر سے
تُو سیدھا راستہ لکھوں
جو مہکاتی ہے رُوحوں کو
تجھے ایسی ہوا لکھوں
محمد سایہ کملی کا
کریں تجھکو عطا لکھوں
حفاظت تیرے سانسوں کی
کرے ہر دم خدا لکھوں