طالبان کی دھمکیوں کے بعد لاہور میں ہائی الرٹ، اہم شخصیات کی سکیورٹی سخت

لاہور (نامہ نگار) حکیم اللہ محسود کی ہلاکت اور سانحہ راولپنڈی کے بعد تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے اہم حکومتی و سیاسی شخصیات اور حساس مقامات کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے پیش نظر پولیس و قانون نافذ کرنیوالے ادارے سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ اہم شخصیات کی سکیورٹی سخت کرنے کے علاوہ انہیں اپنی مصروفیات ترک یا پھر ممکنہ حد تک کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حساس مقامات کی سکیورٹی کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ عاشورہ کے موقع پر سکیورٹی پر مامور تمام افسروں اور اہلکاروں کو بدستور ڈیوٹی پر موجود رہنے کے احکامات جاری کردئیے گئے۔ بڑے شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کیلئے خصوصی پوسٹیں قائم کر دی گئی ہیں۔ آئی جی پنجاب پولیس خان بیگ نے پولیس فورس کو صوبے کے داخلی اور خارجی راستوں پر  پٹرولنگ بڑھانے اورنفری میں اضافے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ انہوں نے تمام آرپی اوز اور ڈی پی اوز کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ تمام پولیس افسر ذاتی طور پر فیلڈ میں موجود رہیں اور صورتحال پر کڑی نگاہ رکھیں۔ اسکے علاوہ صوبے بھر میں اہم عمارات، تجارتی مراکز، مساجد، امام بارگاہوں، اور مزارات پر بھی سکیورٹی بڑھانے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔