شورش کاشمیری باطل قوتوں کے سامنے ڈٹے رہے‘ اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا: مقررین

لاہور (کلچرل رپورٹر) آغا شورش کاشمیری ہمہ جہت شخصیت تھے، وہ شاعر، صحافی، ادیب، سیاست دان اور مقرر تھے۔ انہوں نے جیلیں کاٹیں، باطل قوتوں کے سامنے ڈٹے رہے مگر اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان جیسی ہمہ جہت شخصیت دوبارہ پیدا نہیں ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے گزشتہ روز پنجابی یونین کے زیر اہتمام نامور شاعر، ادیب، صحافی، مقرر اور سیاستدان آغا شورش کاشمیری کی 38ویں برسی کے حوالے سے الحمرا ہال میں منعقدہ تقریب میں کیا۔ معروف ادیب خواجہ محمد ذکریا نے تقریب کی صدارت کی۔ مقررین میں کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی، ڈپٹی ایڈیٹر نوائے وقت سعید آسی، کالم نگار مجیب الرحمان شامی، حسین شاد، بشریٰ رحمان، آفتاب لودھی، سجاد بخاری، آغا مشہود شورش، اوریا مقبول جان، حافظ شفیق الرحمان، منظور حسین گیلانی، بیگم نادرہ افضل وٹو، مشتاق راج، خالد ہمایوں تھے۔ نظامت چیئرمین پنجابی یونین مدثراقبال بٹ نے کی۔ گلوکار عنایت عابد نے آغا شورش کاشمیری کا کلام پیش کیا۔ خواجہ محمد زکریا نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ آغا شورش ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ سید عطاءاللہ شاہ بخاری کے بعد اگر کوئی خطیب تھا تو وہ آغا شورش تھے۔ ان کی سیاست میں بھی بہت خدمات ہیں۔ انہوں نے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ جیلوں میں گزارا۔ بہت اچھے ادیب تھے۔ ان کے کام پر تحقیق کی ضرورت ہے۔ ڈپٹی ایڈیٹر سعید آسی نے کہا کہ وہ پنجاب کی نمائندہ شخصیت تھی جن پر دھرتی ناز کرتی ہے۔ تحریک پاکستان کے حوالے سے ان کے نظریات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ وہ حکمرانوں کے آمرانہ رویوں کے سامنے ڈٹ جاتے۔ ان کے رسالے ”چٹان“ اور نوائے وقت نے مل کر باطل قوتوں کا مقابلہ کیا۔ آغا شورش کا ڈاکٹر مجید نظامی سے بہت تعلق رہا ہے۔ جب حمید نظامی بیمار تھے تو انہوں نے ڈاکٹر مجید نظامی کو برطانیہ فون کیا کہ آپ فوری طور پر پاکستان آئیں اور نوائے وقت کو سنبھالیں جس پر ڈاکٹر مجید نظامی واپس آگئے اور نوائے وقت کو سنبھالا۔ آج بھی اگر نوائے وقت کے ساتھ چٹان ہوتا تو بہت اچھا ہوتا۔ ڈاکٹر اجمل نیازی نے کہا کہ میں نے آغا شورش کاشمیری کے بعد کسی کو تقریر کرتے نہیں سنا۔ انہوں نے اپنے رسالے کا نام چٹان رکھا وہ خود بھی چٹان کی طرح مضبوط تھے۔ جب ایوب خان نے کہا کہ جس نے بھٹو کا نام لیا اسے نہیں چھوڑوں گا، اس وقت دو شخصیات تھیں جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے اعزاز میں وائی ایم سی اے ہال میں تقریب کا اہتمام کیا، ایک شخصیت آغا شورش کاشمیری کی تھی اور دوسری جناب ڈاکٹر مجید نظامی کی تھی۔ بیگم بشریٰ رحمان نے کہا کہ آغا شورش بہت بڑی ہستی تھی اور بے پناہ خوبیوں کے مالک تھے۔ ان جیسی شخصیات دوبارہ پیدا نہیں ہوں گی۔ مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ آغا شورش کاشمیری بیک وقت شاعر، خطیب، صحافی اور سیاستدان تھے، اتنی خوبیاں بہت کم لوگوں میں ہوتی ہیں۔ انہوں نے ہمیں باطل قوتوں کے سامنے بات کرنے کا حوصلہ دیا۔ آفتاب لودھی نے کہا کہ اگر آج وہ زندہ ہوتے تو موجودہ جمہوریت کو جمہوریت کی بجائے آمریت کہتے۔ حافظ شفیق الرحمان نے کہا کہ آغا شورش کاشمیری ایک ادارے، ایک قافلے کا نام ہے، ایسے قافلے کا نام ہے جس نے ....؟؟ روایت کو زندہ رکھا۔ منظور حسین گیلانی نے کہا کہ آج اگر شورش کاشمیر زندہ ہوتے تو فرقہ واریت کے خلاف ہوتے اور ایک پاکستان کی بات کرتے۔ خالد ہمایوں نے آغا شورش کاشمیری کی تقاریر کے کچھ حصے سنائے۔