راولپنڈی کا واقعہ بدنما داغ ہے‘ ذمہ دار سزا سے نہیں بچ سکیں گے : شہباز شریف

لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کودہشت گردی، توانائی سمیت دیگر بڑے چیلنجز درپیش ہیں عزم و ہمت، مشترکہ کاوشوں اور اجتماعی بصیرت کو بروئے کار لا کر ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ دہشت گردی اور توانائی بحران کے خاتمے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لئے ہم سب کو بحیثیت قوم اکٹھا ہونا ہو گا۔ پاکستان وسائل کی دولت سے مالامال ملک ہے اور بہترین اذہان نے ملک کو ایٹمی قوت بنایا ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ملک کو درپیش مسائل حل نہ ہو سکیں لیکن اس کے لئے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ وہ گذشتہ روز ایوان وزیر اعلیٰ میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے نیشنل سکیورٹی اینڈ وار کورس کے شرکاءسے خطاب کر رہے تھے۔ شہباز شریف نے کورس کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اور صوبوں کے بہترین انتظامات کے باعث پورے ملک میں محرم الحرام پرامن رہا اور سیاستدانوں سمیت پولیس اور انتظامیہ نے بہترین کام کیا۔ افواج پا کستان کا کر دار بھی لائق تحسین رہا ہے۔ پاک افواج نے زلزلہ ، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات میں اپنے ہم وطنوں کی ہر طرح سے مدد کی۔ راولپنڈی میں ہونے والے افسوسناک واقعہ پر دلی افسوس ہوا۔ پوری قوم اس واقعہ پر رنجیدہ ہے۔ سانحہ راولپنڈی کے ذمہ دار عناصر کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں گے، اس ضمن میں ہائی کورٹ کے جج سے جوڈیشل انکوائری کرائی جا رہی ہے جبکہ واقعہ کے حقائق جانچنے کے لئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔ پاکستان لاکھوں افراد کی قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا تاکہ اس ملک میں میرٹ، ایمانداری اور اہلیت کی حکمرانی ہو لیکن 10 محرم کو راولپنڈی کے واقعہ کے ذریعے پوری دنیا کو یہ پیغام گیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں برداشت ختم ہو چکی ہے اور ےہ واقعہ پا کستان کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے جس کے ذمہ دار سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔ افسوس کا مقام ہے ایک خدا، ایک کتاب اور ایک رسول کو ماننے والے آج ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے ہیں۔ میں آپ کویقین دلاتا ہوںکہ سا نحہ راولپنڈی کے ذمہ دار عناصر کے خلاف بلا ا متیاز اور بلا تفریق کارروائی ہو گی۔ 1980ءکی دہائی میں کمیونزم کے خلاف نام نہاد جنگ نے ہمیں کلاشنکوف، منشیات، اغوا برائے تاوان، سمگلنگ کا کلچر دیا جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معصوم پاکستانیوں کا خون بہایا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان 40 ہزار جانوں کی قربانی دے چکاہے جن میں پاک افواج کے افسران، جوان، ان کے بچے، پولیس اور قانون نافذ کرنے والوں اداروں کے افسران اور جوان اور عام شہری شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کو ختم کئے بغیر پاکستان معاشی طو رپر مضبوط نہیں ہو سکتا اورنہ ہی سماجی شعبوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ دہشت گردی پرصرف بندوق کی طاقت سے قابو نہیں پایا جا سکتا بلکہ اس خطرے سے نمٹنے کے لئے معاشی و تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہو گا۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا ہو گی۔ امیر او رغریب کے درمیان تفاوت کو کم کرنا ہو گا، قدرتی وسائل کو لوگوں کی بھلائی کے لئے استعمال میں لانا ہو گا۔ اجتماعی بصیرت اور انتھک کاوشوں کی بدولت ملک کو تمام مسائل سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔ اقرباپروری، کرپشن، سفارش کلچر بھی ملک کے مسائل ہیں، گڈ گورننس اور شفافیت کی پالیسی کے ذریعے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری حکومت سے دوسری جمہوری حکومت کو اقتدار کی منتقلی ایک بڑا سنگ میل ہے۔ جمہوریت عوام کی خدمت، گڈ گورننس، کرپشن کا خاتمہ اور عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا نام ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت عوام کو ریلیف کی فراہمی اور مسائل سے نجات دلانے کے لئے پہلے دن ہی سے کاوشیں کر رہی ہے۔ شہباز شریف نے توانائی کے مسئلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کا بحران بھی پاکستان کو درپیش ایک بڑا چیلنج ہے۔ سابق حکمرانوں نے توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لئے کوئی عملی ا قدامات نہیں کئے بلکہ نندی پور پاور پراجیکٹ جیسے پنجاب حکومت کے منصوبوں میں بھی ا پنی لالچ او رطمع کی خاطر رکاوٹیں ڈالیں۔ سابق حکمرانوںکی اس لالچ کی وجہ سے پاکستان کے عوام کو ا ربوں روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہاہے۔ پاکستان جیسا غریب ملک اس کا کسی صورت متحمل نہیں ہو سکتا۔ توانائی کا بحران اگرچہ بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن مسلم لیگ (ن) کی قیادت پرعز م ہے اور انشاءاﷲاس مسئلے پر ضرور قابو پا لیں گے۔ کالا باغ ڈیم اگرچہ معاشی لحاظ سے اہم منصوبہ ہے لےکن ےہ قومی ےکجہتی سے بڑھ کر نہیں ہے۔ کالا باغ ڈیم قومی اتفاق رائے سے ہی بننا چاہئے۔ سندھ میں دنیا کے سب سے بڑے کوئلے کے ذخائر موجود ہیں لےکن بد قسمتی سے سابق حکمرانوں نے اس جانب بھی کوئی توجہ نہیں دی۔ تیل سے بجلی کا حصول انتہائی مہنگا ہے اور حکومت کو سالانہ 10 ارب ڈالر تیل کی درآمد پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ مقامی وسائل کو بروئے کا لانا ہو گا اور تیل کی درآمد پر انحصار کم کرنا ہو گا۔ پاکستان ایٹمی طاقت بھی بنا لیکن اس کے باوجودہم آج بھی مشکلات اور مسائل میں گھرے ہیں۔ راستہ مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ وزیر اعلیٰ نے شرکا کے سوالات کے جوابات دےتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے فرقہ واریت اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں۔ علاقے کے محرومیوں کے خاتمے کے لئے آبادی کے تناسب سے بڑھ کر وسائل فراہم کئے گئے ہیں۔ دریں اثناءشہباز شریف سے چائنہ سول انجینئرنگ کارپوریشن اور شین ڈونگ رویائی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کمپنی کے وفود نے گذشتہ روز ڈائریکٹر جنرل اوورسیز مسٹر وینگ ہوئی اور چیئرمین چیویاف کی سربراہی میں ملاقات کی اور ان سے بس ریپڈ ٹرانسپورٹ سسٹم سمیت انفراسٹرکچر کے مختلف منصوبوں اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے شعبے میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ شہباز شریف نے چینی کمپنی کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب نے انفراسٹرکچر کے شعبے کی بہتری کیلئے انقلابی اقدامات کئے ہیں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی مختلف منصوبوں میں تمام سہولیات فراہم کر رہی ہے اور وہ چائنہ سول نجینئرنگ کارپوریشن کو بھی انفراسٹرکچر کے شعبہ میں تعاون کی دعوت دیتے ہیں۔ داتا دربار سے ریلوے سٹیشن تک انڈر گراﺅنڈ ٹرین چلانے کا منصوبہ انفراسٹرکچر کے شعبہ میں انقلابی پیشرفت ثابت ہو گا جبکہ راولپنڈی میں بی آر ٹی کا منصوبہ بھی شہریوں کو آرام دہ اور جدید سفری سہولیات کی فراہمی کا ذریعہ بنے گا۔ انہوں نے چینی کمپنی کا لاہور میں انڈرگراﺅنڈ ٹرین، راولپنڈی میں میٹرو بس پراجیکٹ اور دیگر منصوبوں میں تعاون میں دلچسپی کا اظہار کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب ان منصوبوں کیلئے سازگار ماحول اور ہرممکن سہولیات فراہم کرے گی۔ وفد کے سربراہ مسٹر وینگ ہوئی نے ملاقات میں پنجاب میں انفراسٹرکچر کی بہتری اور متعدد منصوبوں کے معیار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کمپنی بھی پنجاب حکومت کے ساتھ انفراسٹرکچر کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کی خواہاں ہے او ر اس ضمن میں جلد حکمت عملی وضع کر لی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے مابین تجارتی و معاشی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو جی ایس پی کا درجہ ملنے سے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہو گا۔ پنجاب میں گارمنٹس انڈسٹری میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ چینی وفد کے سربراہ نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت اور چین کے ٹیکسٹائل گروپ کے اشتراک سے انڈسٹری زون بنایا جا سکتا ہے اور ان کی کمپنی پنجاب کے ساتھ ٹیکسٹائل کے شعبہ میں تعاون بڑھانا چاہتی ہے۔
شہباز شریف