حکومت پنجاب نے انٹی کرپشن میں سپیشل انوسٹی گیشن یونٹ بنانے کا فیصلہ کرلیا

لاہور ( معین اظہر سے )  حکومت پنجاب نے صوبے میں کرپشن کے خاتمے کے لئے انٹی کرپشن میں ایک مرتبہ پھر سپیشل انوسٹی گیشن یونٹ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس میں ریٹائرڈ افسروں کو کنٹریکٹ پر بھرتی کیا جائیگا  جبکہ ڈی ایم جی، پی ایم ایس اور پولیس افسران کے گریڈ 17 اور گریڈ 18 سے اگلے گریڈ میں ترقی کیلئے لازمی طور پر تین سال تک انٹی کرپشن میں تعینات رہنا پڑیگا۔ انٹی کرپشن میں تعینات اسٹنٹ ڈائریکٹر انوسٹی گیشن اور اسٹنٹ ڈائریکٹرٹیکنکل کو سرکاری گاڑیاں جبکہ افسروں اور ملازمین کو 100 فیصد سپیشل الائونس دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ یہ فیصلے وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کی سربراہی میں انٹی کرپشن کی کارکردگی میں اضافہ کیلئے بنائی گئی کمیٹی نے کئے۔ جس نے تقریباً 20 سے 30 کروڑ کے مزید اخراجات انٹی کرپشن کی کارکردگی بڑھانے کیلئے لازمی قرار دیدئیے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے صوبے میں کرپشن کے خاتمے ، انٹی کرپشن کی کارکردگی کو بہتر کرنے کیلئے اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں سیکرٹری سروسز، ممبر کالونیز بورڈ آف ریونیو ، ممبر ٹیکس بورڈ آف ریونیو، سیکرٹری ریگولیشن پنجاب، فنانس ڈیپارٹمنٹ کا نمائندہ شامل تھا، کے اجلاس میں جو فیصلے کئے اور وزیراعلیٰ پنجاب کو حتمی منظوری کیلئے بھجوائے گئے۔ ان کے مطابق انٹی کرپشن میں خالی آسامیوں کو پر کرنے کیلئے کہا گیا کہ پولیس افسروں انٹی کرپشن میں تعیناتی سے گھبراتے ہیں کیونکہ انکی تنخواہ زیادہ ہے جس پر فنانس ڈیپارٹمنٹ نے تجویز دی جس میں کہا گیا ہے کہ اسٹنٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر کی پوسٹیں چونکہ گریڈ 17 اور گریڈ 18 میں ہیں اسلئے ڈی ایم جی ، پولیس   اور صوبائی سروس میں ان گریڈ وں پر ترقی کیلئے لازمی کر دیا جائے۔ افسرانٹی کرپشن میں خاص وقت کیلئے خدمات سرانجام دے تو پھر اس کو ترقی دی جائے جس پر سیکرٹری سروسز کو اس پر عملدرآمد کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ انٹی کرپشن میں تعینات ہونیوالے افسران کو ماہانہ 40 فیصد سپیشل تنخواہ دی جاتی ہے جو 2011ء سے فریز کر دی گئی ہے جبکہ انٹی کرپشن میں تعینات عملے کو 100 فیصد سپیشل الاونس کیساتھ ساتھ 20 فیصد ایڈیشنل الائونس دیا جائے جس کی وجہ سے سالانہ 7 کڑور 30  روپے اضافی خرچہ ہو گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اسٹنٹ ڈائریکٹر انوسٹی گیشن، اسٹنٹ ڈائریکٹر ٹیکنکل پر تعینات افسران نے انکوائری اور انوسٹی گیشن کرنی ہوتی ہے اس کے لئے ان کو مختلف جگہوں پر جانا پڑتا ہے اسلئے ان دو عہدوں پر تعینات افسران کو 800 سی سی گاڑیاں دی جائیں اور انٹی کرپشن میں 56 افسران ان عہدوں پر تعینات ہیں ان کو 800 سے 1000 ہزار سی سی تک 56 گاڑیاں دی جائیں اس پر حکومت کو 8 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ کرنے پڑیں گے۔ اسی طرح ہر ریجنل ہیڈ کواٹر پر ڈبل کیبن گاڑی دور دارز علاقے میں انوسٹی گیشن اور انکوائری کرنے کیلئے جانے کیلئے دی جائے۔ جدید کمپوٹر سسٹم ہیڈ آفس میں لگایا جائے جس پر تقریباً 1 کروڑ 60 لاکھ خرچ ہونگے۔ کمیٹی نے 2010 کی طرح سپیشل انوسٹی گیشن یونٹ بنانے کی منظوری دیدی ہے جس میں عدلیہ کے ریٹائرڈ افسران  اور ایگزیکٹو کے ریٹائرڈ افسران کو رکھا جائیگا جس پر سالانہ 2 کروڑ روپیہ خرچ آئیگا  جو کرپشن کے بڑے کیسوں سے متلق انکوائری کریگا۔ انٹی کرپشن ہیڈ افس سمیت تمام پنجاب میں انٹی کرپشن کے دفاتر کرائے کی بلڈنگ میں ہیں۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ انٹی کرپشن بورڈ آف ریونیو اور کمشنروں کے ساتھ طے کر کے جگہ کی نشاندہی کرکے انٹی کرپشن کے ضلعی دفاتر اور تھانے اپنی بلڈنگ میں بنائے جائیں گے۔