حکومت نے سانحہ راولپنڈی سمیت دیگر مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے مشرف کے ٹرائل کا شوشہ چھوڑا: میاں محمودالرشید

لاہور (خصوصی نامہ نگار/نوائے وقت نیوز)  اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی میاں محمود الرشید نے پنجاب حکومت سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حمزہ شہباز صوبے کے ڈیفیکٹو وزیراعلیٰ ہیں، مسلم لیگ (ن) کو چاہیے کہ وہ موجودہ قیادت کو ہٹا کر متبادل قیادت سامنے لائے ،اور اگر حمزہ شہباز ہی وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں تو وہ بھی آ جائیں پنجاب کے عوام ریلیف چاہتے ہیں، سانحہ راولپنڈی نے حکومت کے امن وامان کے اقدامات کا پول کھول دیا ہے، قیام پاکستان سے لے کر اب تک اتنی مہنگائی نہیں ہوئی جتنی  ہو رہی ہے، پنجاب میں مسلم لیگ  ن کی حکومت کو پانچ ماہ ہو چکے ہیں اس دوران  آٹے کی قیمت میں دو سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ حکومت  نے سانحہ راولپنڈی  اور دیگر مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے پرویز مشرف کے ٹرائل کا شوشا چھوڑا ہے۔ وہ سوموار کے روز پنجاب اسمبلی کمیٹی روم میں ارکان پنجاب اسمبلی ڈاکٹر نوشین حامد، سعدیہ  سہیل احمد اور ملک احمد خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اپوزیشن لیڈر   پنجاب اسمبلی میاں محمود الرشید نے کہا شہبازشریف کو پنجاب کے امور میں کوئی دلچسپی نہیں جس کی سزا پنجاب کے عوام کو مل رہی ہے۔ صوبے میں جرائم پیشہ لوگوں، گینگز، منافع خوروں، ڈاکوؤں  اور چوروں کی رٹ قائم ہے حکومت کی رٹ کہیں نظر نہیں آتی۔  مسلم لیگ ن کی حکومت 2008ء  سے لے کر آج تک صوبے میں قائم ہے اس دوران مہنگائی نے ریکارڈ توڑ دیئے۔ 2008ء میں جب   مسلم لیگ ن   نے پنجاب کا اقتدار سنبھالا تو آٹے کی فی کلو قیمت 16 روپے  تھی جو آج 50 سے 55  روپے ہو چکی ہے۔ کمسن بچی زیادتی کیس ہو یا کوئی معاملہ پنجاب حکومت کہیں بھی ملزموں کو پکڑنے میں کامیاب نہیں ہوئی ۔جب واضح طور پر یہ معلوم تھا کہ راولپنڈی میں کہاں اہل تشیع نے نماز ظہرین ادا کرنی ہے وہیں ساتھ ہی مسجد میں جمعہ ہونا ہے تو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے  ادارے کہاں تھے۔  وہاں کشیدگی کے بعد بھی پولیس نظر نہیں آئی اور رانا ثناء اللہ نے خود اعتراف کیا ہے کہ پونے دو بجے  واقعہ ہوا  لیکن پولیس افسران اڑھائی بجے آئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پنجاب حکومت فوری طور پر مستعفی ہو جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حمزہ شہباز ہی فل وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں تو بے شک وہ آ جائیں  پنجاب کے 10 کروڑ عوام ریلیف مانگ رہے ہیں جو انہیں ہر صورت ملنا چاہیے۔  ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پنجاب جو کبھی دوسرے صوبوں کو خوراک مہیا کرتا تھا آج خود قحط سالی کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے اور اگر حالات یہی رہے تو پنجاب میں خانہ جنگی بھی شروع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مطالبے کے باوجود حکومت پنجاب اسمبلی کا اجلاس نہیں بلا رہے جب بھی اجلاس  بلایا گیا ہم پنجاب حکومت کی نااہلیوں اور ناکامیوں کے خلاف شدید احتجاج کریں گے۔