واپڈا کی نجکاری کے خلاف لاہور سمیت کئی شہروں میں مظاہرے، دفاتر کی تالا بندی

لاہور + اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے+ آن لائن+ نمائندگان) واپڈا کی نجکاری کے خلاف لاہور سمیت کئی شہروں میں مظاہرے، دفاتر کی تالہ بندی کی گئی۔ واپڈا ، محکمہ بجلی اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی(آئیسکو)، لیسکو، فیسکو،حیسکو، گوجرانوالہ اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنیز اور بجلی کی دیگر تقسیم کار کمپنیوں کی مجوزہ نج کاری کے خلاف ملک بھر سے آنے والے ہزاروں واپڈا کارکنوں نے گذشتہ روز اسلام آبادمیں زبردست طاقت کا مظاہرہ کیا اور نیشنل پریس کلب سے آب پارہ تک ایک فقید المثال احتجاجی ریلی نکالی اور کئی گھنٹے تک دھرنا دیا۔ مظاہرے کا اہتمام آل پاکستان واپڈا ہائیڈروالیکٹرک ورکرز یونین (سی بی اے) نے کیا تھا ۔جس کی قیادت بزرگ مزدور راہنما اور یونین کے مرکزی سیکرٹری جنرل خورشیداحمد و دیگر نے کی۔ مزدور راہنما خورشید احمد نے کہا ہم ملک میں کوئی انارکی یا صنعتی امن تہہ و بالا کرنے کی صورتحال نہیں چاہتے لہذا نجکاری کے مسئلہ کو باہمی افہام وتفہیم سے حل کرنے کے خواہاں ہیں لیکن موجودہ حکومت یک طرفہ فیصلہ کرکے صنعتی امن برباد کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ موجودہ حکومت عوام کو سستی بجلی مہیا کرانے کے لئے جنگی بنیادوں پر نئے ہائیڈل پاور سٹیشن اور گیس و کوئلہ سے تھرمل بجلی گھر سرکاری شعبے میں تعمیر کرائے تاکہ ملک میں لوڈشیڈنگ کی وبا ختم ہو، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف پر تکیہ کرنے کی بجائے بیرون ملک پاکستانی جاگیرداروں ، سرمایہ داروں اور سیاستدانوں کے 200 ارب ڈالر سوئس بینکوں میں جمع شدہ رقوم وطن واپس لائے ، تنخواہ دار ملازمین کی طرح ملک کے سرمایہ داروں و جاگیرداروں اور اسمبلی کے ارکان سے ٹیکس وصول کرکے غیر ملکی اقتصادی انحصاری کے خاتمہ کے لئے اقدامات کرے، بجلی کے مفاد عامہ کی حکومتی مجوزہ نجکاری پالیسی سے ملک میں بجلی کی قیمتوں میں نجی تھرمل بجلی گھروں کی طرح اضافہ ہوگا جو واپڈا کے ہائیڈل پاور سٹیشن کے تحت ایک روپے 70 پیسے فی یونٹ پیدا کرنے کی بجائے 20 سے 25 روپے فی یونٹ پیدا کررہے ہیں، حکومت اندھا دھند شعبہ بجلی کو نج کاری کے حوالے کرنے کی بجائے اس قومی مسئلہ کو اپنے دوسرے ممالک کی طرح پارلیمنٹ اور سینٹ میں زیر بحث لائے ان خیالات کا اظہار آل پاکستان واپڈا ہائیڈر والیکٹرک ورکرز یونین سی بی اے و انجینئرز ایسوسی ایشن اور محکمہ بجلی و واپڈا کے ہزاروں کارکنوں نے ایک قرارداد کے ذریعے کیا۔ خورشید احمد مرکزی جنرل سیکرٹری یونین نے ملک کے عوام اور پالیسی سازوں کو واضح کیا وہ آئین اسلامی جمہوری پاکستان کے تحت ریاست کی یہ ذمہ داری ہے عوام کو بجلی کی بنیادی ضرورت مہیا کرائے اسی لئے قائداعظم نے اعلان کیا تھا کہ بنیادی مفاد عامہ کے ادارے قومی ملکیت میں ہوں گے، نج کاری سے نہ صرف بجلی مہنگی ہوگی اور پانی کی تقسیم کی طرح بین الصوبائی تنازعات پیدا ہوں گے۔ یونین کے صدر عبداللطیف نظامانی، چیئرمین گوہر تاج اور اسلام آباد ریجن کے چیئرمین جاوید اقبال بلوچ، سیکرٹری حاجی ظاہر گل، اقبال خان (پشاور)، اقبال ڈار (گوجرانوالہ)، و دیگر مزدور نمائندگان نے خطاب کیا۔ ریلوے، آئل اینڈگیس، نیشنل بینک آف پاکستان ودیگر مزدور تنظیموں کے نمائندگان نے محکمہ بجلی نج کاری روکنے کی جدوجہد میں اپنی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ علاوہ ازیں گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کیخلاف گیپکو ریجن میں ہڑتال ‘ چیف آفس کی تالہ بندی شکایات سیل کے علاوہ تمام دفاتر میں کام بند‘ ہزاروں ملازمین کا گیپکو آفس کے باہر احتجاج سینکڑوں کارکن احتجاجی مظاہرے میں شرکت کیلئے اسلام آباد روانہ ہو گئے ‘ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی پرائیوٹائزیشن کیخلاف آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک سنٹرل لیبر یونین کی کال پر ملک بھر کی طرح گیپکو ریجن میں مکمل ہڑتال کی گئی‘ چیف آفس کو تالہ لگا دیا گیا ‘ شکایات سیل کے علاوہ تمام دفاتر میں کام بند رہا ‘ ریجنل چیئرمین سی بی اے محمد اقبال ڈار اور جنرل سیکرٹری ولی الرحمن خان کی قیادت میں ہزاروں ملازمین چیف آفس کے باہر جمع ہو گئے‘ پرائیوٹائزیشن کیخلاف شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کا مقصد گیپکو کے ہزاروں ملازمین کا معاشی قتل ہے۔ لاہور، کراچی، ساہیوال، سکھر سمیت متعدد شہروں میں نجکاری کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ علاوہ ازیں میانوالی، عارف والا اور گوجرہ میں بھی ملازمین نے ہڑتال کی۔