مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے سینٹ میں حمایت حاصل کرنے کیلئے جماعت اسلامی سے رابطے

لاہور/اوکاڑہ (آئی این پی)سینٹ میں اپنے امیدواروں کے لئے حمایت حاصل کرنے کیلئے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے جماعت اسلامی سے رابطے جاری ‘ منظور وٹو کا لیاقت بلوچ کو ٹیلی فون ‘ خواجہ سعد رفیق کی ملاقات‘ پنجاب میں جماعت اسلامی کے واحد رکن اسمبلی ڈاکٹر وسیم اختر اور قومی اسمبلی میں چار ووٹ مسلم لیگ ن کو ملنے کا امکان‘جماعت اسلامی سندھ میں پیپلز پارٹی کے دوبارہ ایم کیو ایم سے اتحاد کرنے پر ناراض‘ حتمی فیصلہ یکم مارچ کو ہو گا۔ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی میں ایک ووٹ جبکہ قومی اسمبلی میں چار ووٹ ہیں۔ صوبہ کے پی کے میںجماعت اسلامی تحریک انصاف کے ساتھ ملکر سینٹ کا الیکشن لڑ رہی ہے۔پی ٹی آئی نے تو کے پی کے کے علاوہ دیگر صوبوں اور وفاق سے سینٹ الیکشن کا بائیکاٹ کیا ہے لیکن جماعت اسلامی نے قومی اسمبلی کے اپنے چار ووٹ جبکہ پنجاب اسمبلی کا ایک ووٹ ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ووٹوں کے حصول کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے آصف علی زرداری کی ہدایت پر جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ کو ٹیلی فون کیا اور قومی اسمبلی کے چار اور پنجاب اسمبلی کے ایک ووٹ کی درخواست کی ۔جبکہ ن لیگ کی طرف سے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے لیاقت بلوچ سے ملاقات کی اور سینٹ کی الیکشن میں حمائت کرنے کو کہا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی اس حوالے سے حتمی فیصلہ تو مشاورت کے بعد یکم مارچ کو کرے گی لیکن پیپلز پارٹی کی حمایت خارج از امکان ہے کیوں کہ ذرائع کے مطابق جماعت کا مؤقف ہے کہ پیپلز پارٹی نے ایک فاشسٹ گروہ ایم کیو ایم سے وقتی فائدہ حاصل کرنے کے لئے اتحاد کیا ہے لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ جو جماعت ایم کیو ایم سے حمائت لے اسے جماعت اسلامی بھی سپورٹ کرے۔ذرائع نے دعویٰ کیا کہ وفاق میں جماعت اسلامی کے چار اور پنجاب اسمبلی میں ایک ووٹ ن لیگ کو ملنے کا امکان ہے۔