سانحہ ماڈل ٹائون: انکوائری رپورٹ سامنے نہ لا کر کیا حکومت گناہ گاروں کو بچانا چاہتی ہے: ہائیکورٹ

لاہور (وقائع نگار خصوصی) ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاون کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کے لیے دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ رپورٹ منظر عام پر نہ لا کر کیا حکومت گناہ گاروں کو بچانا چاہتی ہے۔ جسٹس خالد محمود خان کی سربراہی میں فل بنچ نے سماعت کی۔ درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا کہ سانحہ ماڈل ٹاون کی جوڈیشل انکوائری کروانے کے بعد حکومت اس رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لا رہی۔ ہائی کورٹ کے جوڈیشل کمشن نے رپورٹ میں حکومت پنجاب کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔ حکومت کا موقف ہے کہ رپورٹ کے منظر عام پر لانے سے امن و امان کی صورتحال خراب ہو گی۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے کہا کہ رپورٹ غائب بھی کی جا سکتی ہے۔ جس پر عدالت نے سرکاری لاء افسر سے استفسار کیا کہ اگر رپورٹ گم گئی تو پھر کیا بنے گا۔ حکومت پنجاب کے وکیل نے جواب داخل کروانے کے لیے مہلت کی استدعا کی جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آٹھ ماہ سے حکومت کو نوٹس جاری کیے مگر جواب داخل نہیں ہوا حکومت نے عدالتوں کو مذاق سمجھ رکھا ہے۔ عدالت نے حکومت کو جواب داخل کروانے کے لیے حتمی مہلت دیتے ہوئے سماعت تین مارچ تک ملتوی کر دی۔