ساتویں سالانہ سہ روزہ نظریہ پاکستان کانفرنس آج شروع ہوگی

لاہور (خبرنگار) نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام ساتویں سالانہ سہ روزہ نظریہ پاکستان کانفرنس کا آغاز آج 19 فروری کو ایوان کارکنان تحریک پاکستان 100 شاہراہ قائداعظمؒ لاہور میں ہوگا۔ کانفرنس میں کارکنان تحریک پاکستان، اندرون و بیرون ملک سے نظریہ پاکستان فورمز کے عہدیداروں، کارکنوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کے نمائندہ وفود شرکت کریں گے۔ کانفرنس ہفتہ 21 فروری تک جاری رہے گی۔ اس کانفرنس کا مرکزی موضوع ’’خطے کے بدلتے تناظر میں نظریہ پاکستان قومی استحکام کی ضمانت‘‘ ہے۔ افتتاحی نشست میں محمد رفیق تارڑ کارکنان تحریک پاکستان (گولڈ میڈلٹس) کے ساتھ پرچم کشائی کریں گے۔ بعدازاں وائیں ہال میں شرکاء قومی عہد کی تجدید کریں گے۔ کانفرنس کے دوران مختلف موضوعات پر آٹھ نشستیں 11 موضوعاتی گروہی مباحثے ہوں گے جس کے چیف کوآرڈی نیٹر نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد ہوں گے جبکہ معاونین میں پروفیسر ڈاکٹر پروین خان، بیگم صفیہ اسحاق اور ڈاکٹر نوید ازہر شامل ہیں۔ گروپ نمبر 1 کا موضوع ’’عوام میں حقوق و فرائض کا احساس اردو زبان کے فروغ سے ممکن ہے‘‘ گروپ نمبر 2 کا موضوع ’’خواتین کے خلاف سماجی تعصبات اور ان کا تدارک کیسے ممکن ہے‘‘ گروپ 3 کا موضوع ’’عوام کے درمیان قومی یکجہتی کیلئے کارآمد ٹھوس تجاویز‘‘ گروپ نمبر 4 کا موضوع ’’نصاب اور تعلیمی مواقع یکساں کیوں نہیں؟‘‘ گروپ نمبر 5 کا موضوع ’’بھارت کی آبی جارحیت کے سدباب کیلئے قومی لائحہ عمل‘‘ گروپ نمبر 6 کا موضوع ’’توانائی کا بحران۔ کیسے حل ہو؟‘‘ گروپ نمبر 7 کا موضوع ’’پاکستان کو معاشی ترقی اور استحکام کیسے حاصل ہوسکتا ہے؟‘‘ گروپ نمبر 8 کا موضوع ’’پاکستان کے اسلامی ممالک سے تعلقات‘‘ گروپ نمبر 9 کا موضوع ’’دہشت گردی کے خلاف نظریاتی حوالے سے مقابلہ کس طرح ممکن ہے؟‘‘ گروپ نمبر 10 کا موضوع ’’عدالتوں میں فیصلوں کی تاخیر، ذمہ دار کون؟‘‘ گروپ نمبر 11 کا موضوع ’’ہماری قومی تاریخ باعث تفاخر‘‘ ہوگا۔ پہلے دن آخری سیشن کا موضوع ’’تعمیر ملت کے لئے علماء اور مشائخ کی ذمہ داریاں‘‘ ہوگا۔ دوسرے دن پانچویں نشست میں ’’قومی ترقی کیلئے نوجوانوں میں سائنس ٹیکنالوجی اور تحقیقی سرگرمیوں کا فروغ ناگزیر ہے‘‘، ’’بحرانوں میںگھرے پاکستان کو امن ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے تقاضے‘‘، ’’بڑی طاقتوں کی سیاسی، ثقافتی، معاشی اجارہ داری اور پاکستان کا مستقبل‘‘ اور ’’الیکٹرانک میڈیا پر بھارتی ثقافتی یلغار اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے موضوعات پر مقررین اظہار خیال کریں گے۔ چھٹی نشست کاموضوع ’’حق خود ارادیت کیلئے کشمیریوں کی جدوجہد اور الحاق پاکستان‘‘ ہے۔ تیسرے دن ساتویں نشست کا موضوع ’’پاکستان ناگزیر تھا، ناگزیر ہے،ناگزیر رہے گا‘‘ ہے جبکہ اختتامی نشست میں مندوبین اور حاضرین کے اظہار خیال کیلئے کھلا اجلاس ہوگا اور نظریہ پاکستان فورمز کی کارکردگی رپورٹس، شیلڈوں کی تقسیم، گروہی مباحثوں کی سفارشات پیش کی جائیں گی۔