بلوں میں سرچارجز کا کیس: سیکرٹری پانی و بجلی وزارت خزانہ کے افسر کی 23 فروری کو طلبی

لاہور (وقائع نگار خصوصی) ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے بجلی کے بلوں میں مختلف سرچارجز کے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری پانی و بجلی اور وزارت خزانہ کے افسر کو 23فروری کیلئے طلب کرلیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں بحث کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت پاکستان نے بجلی کے بلوں پر مختلف سرچارجز لگا کر عوام کا استحصال کیا ہے۔ جسٹس سید منصور علی شاہ نے وزارت پانی و بجلی کے وکلا سے استفسار کیا کہ نیپرا ایکٹ 1997کا سکیشن31(5) فنانس ایکٹ کے ذریعے لایا گیا کیا یہ ٹیکس ہے یا فیس ہے یا کوئی اور چیز ہے؟ آپ اب تک عدالت کو مطمئن نہیں کرسکے۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق واپڈا کو یہ اختیار حاصل ہے۔ جسٹس عائشہ اے ملک نے ریمارکس دئیے کہ اب نیپرا ریگولیٹر ہے وفاقی حکومت یا صوبائی پانی وبجلی کا اختیار ختم ہوچکا ہے عدالت کو مطمئن کریں کہ یہ سرچارجز آئین وقانون کے تحت جائز ہیں۔ عدالت نے معاون سے استفسار کیا کہ کیا آئین کے تحت یہ سرچارجز لگائے جاسکتے ہیں؟ عدالتی معاون نے بتایا کہ آئین کے آرٹیکل70 اور 73 کے تحت حکومت یا ٹیکس لگا سکتی ہے یا فیس تیسری کوئی چیز نہیں ہے اور جو بھی ٹیکس حکومت وصول کرتی ہے وہ فنڈ کونسولیڈیٹڈ Consolidated Fund میں جاتی ہے جبکہ دوسرا پبلک فنڈ ہے۔ ان سرچارجز کی رقم نوٹیفکیشن کے مطابق Escroa Fundمیں جائے گی وفاقی حکومت کا اس میں کوئی اختیار نہیں ہے مگر وہ پیسے CPPA نے ادا کرنے ہیں۔ تقسیم کار کمپنیوں کا بوجھ عوام پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ اسی طرح ’’سرچارج سروسنگ ڈیٹ‘‘ اصل میں سرکلر فنڈ کا سود ہے۔ 60سے70فیصد حکومتی ادارے بجلی کے بل ادا نہیں کرتے اور ان کا سود عوام سے لیا جارہا ہے۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت کو اس طرح کے سرچارجز لگانے کا اختیار ہے۔ جبکہ وفاقی حکومت کے مطابق یہ بجلی کی قیمت ہے عدالتی معاون نے بتایا کہ بجلی کی قیمتوں کا تعین کرنے کا اختیار صرف نیپرا کے پاس ہے یہ اختیار ان سے نہیں لیا جا سکتا یہ علیحدہ بات ہے کہ واپڈا کو توڑنے کے بعد ان کمپنیوں نے عوام کے ساتھ کیا کیا۔ چند دنوں میں بجلی پیدا کرنے والی، ٹرانسمیشن کمپنی اور تقسیم کار کمپنیاں بنا دی گئی ہیں اس طرح عوام کو فائدہ ہوا یا نقصان یہ سارا ریکارڈ پر ہے۔ جسٹس سید منصور علی شاہ نے سیکرٹری پانی و بجلی سے استفسار کیا کہ Consolidate Fund اور Public Fund میں آپ کا پیسہ جاتا ہے کیا یہ بھی وزات خزانہ کو پوچھنا پڑے گا۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استسفار کیا کہ ٹیکسز اور ریونیو کونسے فنڈ میں جاتے ہیں اور جو دیگر پیسہ وصول کیا جاتا ہے وہ کون سے فنڈ میں جاتا ہے۔ آئندہ تاریخ کو وزارت خزانہ کا افسر موجود ہو اور وہ تمام ریکارڈ لے کر آئے۔