بجلی کی 15 گھنٹے لوڈشیڈنگ، ٹیکسٹائل سیکٹر کو گیس فراہمی پرگھریلو صارفین پریشان

لاہور (کامرس رپورٹر ) ملک میں بجلی کی پیداوار کے ساتھ ڈیمانڈ میں بھی اضافہ کے باعث شارٹ فال میں کمی نہیں ہوئی جس کے باعث 14 سے 15 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ برقرار رکھا گیا۔ انڈسٹریز کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی جاری رہی۔ مرمت کے نام پر بھی بجلی کی بندش کی گئی۔ گزشتہ روز بجلی کی پیداوار میں مزید اضافہ ہوا۔ دوسری جانب ڈیمانڈ بھی بڑھ گئی۔ ہائیڈل کی پیداوار بڑھ کر 10 ہزار میگاواٹ کے قریب پہنچ گئی۔ گزشتہ روز تربیلا سے 50 ہزار اور منگلا سے 55 ہزار کیوسک پانی کا اخراج کیا گیا ۔ گزشتہ روز بڑے شہروں میں 12 گھنٹے اور دیہی علاقوں میں 15 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کی گئی گزشتہ روز بھی دن میں مسلسل بجلی کی بندش اور رات کے وقت کم لوڈ شیڈنگ کی حکمت عملی اپنائی گئی۔ انرجی مینجمنٹ سیل کے ذرائع کے مطابق گزشتہ روز بجلی کی مجموعی پیداوار 9840 میگا واٹ جبکہ ڈیمانڈ 13510 میگا واٹ رہی، طلب و رسد میں 3670 میگا واٹ کا فرق رہا۔ مزید برآں حکومت کی ہدایت پر سوئی ناردرن کی طرف سے ٹیکسٹائل سیکٹر کو گیس کی جزوی سپلائی بحال کردی گئی جس کیلئے گھریلو سیکٹر سے گیس کم کردی گئی جس کے باعث پنجاب کے مختلف علاقوں میں گیس پریشر میں کمی کی شکایات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ حکومت کی ہدایت پر سوئی ناردرن کی طرف سے ٹیکسٹائل سیکٹر کوگیس کی جزوی سپلائی شروع کردی جو کہ سوئی ناردرن نے چھ روز قبل بند کردی گئی اور روش پاور پلانٹ کو فراہم کر دی تھی۔ذرائع کے مطابق گیس کی ٹیکسٹائل سیکٹر کو فراہمی کے بعد گھریلو سیکٹر میں گیس پریشر میں ایک بار پھر کمی آنا شروع ہوگئی ہے۔ گیس شارٹ فال بھی بڑھ کر 1450 ملین کیوبک فٹ ہوگیا ہے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کو موسم سرما میں گیس کی فراہمی فوری طور پر بند کی جائے۔