نوشہرہ اور اپر دیر میں خسرہ سے 3 بچے جاں بحق‘ 1 11 مریض سامنے آ گئے

لاہور، گوجرانوالہ (نیوزرپورٹر+ نمائندہ خصوصی) محکمہ صحت پنجاب اور ضلعی انتظامیہ کی عدم توجہ سے صوبائی دارالحکومت میں خسرہ سے متاثرہ بچوں کی آمد کا سلسلہ ختم نہ ہو سکا اور متاثرہ 111 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ 27 مریض چلڈرن 21 مریض میو ہسپتال جبکہ 63 مریض نجی کلینکس و ہسپتالوں میں آئے ہیں۔ گنگارام، جناح، سروسز اور چلڈرن ہسپتال میں ویکسین کی انتہائی قلت ہو گئی ہے۔ میڈیکل سٹورز پر خسرہ کی ویکسین بلیک میں فروخت ہو رہی ہے۔ شہری مہنگا علاج کرانے پر مجبور ہیں۔ گوجرانوالہ اور گرد و نواح کے علاقوں میں وائرس پھیل رہا ہے۔ کنگنی والا کے چھ سالہ ناصر، سیالکوٹ بائی پاس کی 4 سالہ شیرا، فرید ٹاﺅن کے دس ماہ کے ہادی اور دس ماہ کی حافیہ کو ڈسٹرکٹ ہسپتال لایا گیا۔ ادھر ضلع ملتان میں خسرہ سے متاثرہ بچوں کی تعداد 195 ہو گئی ہے۔ ڈی جی ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر تنویر کہتے ہیں کہ خسرے سے بچاﺅ کی ویکسین کم ہے۔ محتسب پنجاب جاوید محمود نے خسرہ سے بچوں کی ہلاکت سے متعلق خبروں کا نوٹس لے لیا ہے اور ایڈوائزر محتسب پنجاب رانا امان اللہ خان کو انکوائری 7 دنوں کے اندر مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ مشیر محتسب پنجاب امان اللہ خان نے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب سروسز پنجاب سے خسرہ کی ہلاکتوں اور وباءکی روک تھام کیلئے اقدامات کے بارے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔ نوشہرہ اور اپر دیر میں خسرے کی وبا پھیل گئی اور خسرے سے 3 بچے جاں بحق ہو گئے۔ جان لیوا وبا سے متاثرہ بچوں کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ جاں بحق ہونے والوں میں دیر سے تعلق رکھنے والے بہن بھائی بھی شامل ہیں۔