مشرف آسمانی مخلوق نہیں، انہیں فوری گرفتار کرنا چاہئے تھا: سیاسی رہنما، ماہرین

لاہور/ اسلام آباد/ کراچی (خصوصی نامہ نگار+خصوصی رپورٹر) ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں‘ آئینی و قانونی ماہرین اور سیاسی تجزیہ کاروں نے پرویز مشرف کے ججز نظر بندی کیس میں ضمانت منسوخی کے فیصلہ کے بعد عدالت سے فرار پر انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلہ کے بعد مشرف کا عدالت سے راہ فرار اختیار کرنا مناسب نہیں تھا۔ پرویز مشرف آسمانی مخلوق نہیں، انہیں گرفتار ہونا چاہئے۔ پرویز مشرف خود کو قانون اور پارلیمنٹ سے بالاتر نہیں سمجھتے تو پھر انہیں فوری گرفتاری دینی چاہئے۔ انہوں نے عدالت سے فرار ہو کر اپنے لیے نئی مشکلات پیدا کی ہیں۔ اب وہ اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ قانون کوہر حال میں اپنا راستہ بنانا ہے چاہے کسی کو پسند آئے یا نہ آئے۔ سابق آرمی چیف کو اب کہیں سے بھی ریلیف نہیں ملے گا۔ مسلم لیگ (ن) نے مطالبہ کیا ہے کہ صرف مشرف نہیں انہیں فرار کرانے والوں کو بھی گرفتار کیا جائے۔ تجزیہ کاروں نے اس واقعہ کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون کوہر حال میں اپنا راستہ بنانا ہے چاہے کسی کو پسند آئے یا نہ آئے۔ ماہرین کا کہناہے کہ سابق صدر نے اپنے لئے مشکلات پیدا کرلی ہیں۔ مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ پرویز مشرف کو بہادرانہ انداز میں گرفتاری دینی چاہئے تھی۔ وہ آسمانی مخلوق نہیں انہیں گرفتار کرنا چاہئے۔ جسٹس (ر) سعید الزمان صدیقی نے کہا کہ عدالتی حکم کی تعمیل ہر حالت میں کرنا پڑے گی۔ انہوں نے پرویز مشرف کو مشورہ دیاکہ وہ گرفتاری دے کر سپریم کورٹ سے ضمانت کیلئے رجوع کریں شاید انہیں وہاں سے ضمانت مل جائے۔ مسلم لیگ (ن) کے ترجمان سےنیٹر پرویز رشید نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور اس کے سربراہ نواز شریف کی پرویز مشرف کو صدر زرداری اور پیپلز پارٹی کی جانب سے انڈیمنٹی دلانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے باعث ایسا ممکن ہوا کہ پرویز مشرف کو آج کا دن دیکھنا پڑا ہے۔ زرداری کی پرویز مشرف کو انڈیمنٹی دلانے کی کوشش کامیاب ہوجاتی تو آج عدالت انکے خلاف یہ فیصلہ نہیں دے سکتی تھی۔ جو لوگ مسلم لیگ (ن) یا نوازشریف پر مشرف کیخلاف خاموش رہنے کی الزام تراشی کررہے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ پرویز مشرف کے پاکستان آنے کے اگلے روز ہی نوازشریف نے مانسہرہ کے جلسے میں کہا تھا کہ پاکستان کو تباہی و بربادی سے دوچار کرنیوالا شخص پرویز مشرف بھی پاکستان آچکا ہے۔ ابھی کل ہی چودھری نثار نے کہا کہ پرویز مشرف کو آرمی چیف بھی ہم نے بنایا تھا اسے کیفرکردار تک بھی ہم ہی پہنچائیں گے۔ مسلم لیگ (ن) نے پرویز مشرف کیخلاف سیاسی بیان بازی کرکے معاملہ سیاسی بنانے کی بجائے چاہا کہ قانون خود اپنے راستے پر چلے اور عدلیہ قانون کے مطابق فیصلہ کرے، سو مشرف کیخلاف فیصلہ آگیا ہے جس پر عملدرآمد ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مفرور مجرم کا مقام چک شہزاد کا محل نہیں اڈیالہ جیل ہے۔ جماعت اسلامی کے سربراہ منور حسن نے کہا کہ مشرف کا فرار ہونا کئی سوالوں کو جنم دیتا ہے۔ سپریم کورٹ جانے سے پہلے انکو خود گرفتاری دیدینی چاہئے تھی۔ تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے کہا کہ قانون کے مطابق پرویز مشرف کو فوری طور پر گرفتار کرنا چاہئے تھا۔ ق لیگ کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں، انہوں نے پاکستان آ کر غلطی کی، دہشت گردی کی لہر انتخابی عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔ مسلم لیگ ضیاءکے سربراہ اعجاز الحق نے کہا ہے کہ مشرف نے عدالت سے بھاگ کر اپنے علاوہ افواج پاکستان کی توہین کروائی ہے، کمانڈو ہونے پر فخر کرنے والا عدالت کی کارروائی کے ابتدا ہی میں بوکھلاہٹ کا شکار ہوا۔ سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کی گرفتاری کے لئے کسی کے احکامات کی ضرورت نہیں، انہیں نظربند کرنا بڑی رعایت ہو گی۔ مشرف کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیا گیا تو چک شہزاد کا انتظام جیل انتظامیہ سنبھالے، گھر میں ملازمین بھی جیل قوانین کے مطابق رکھے جائیں۔ مشرف کے خلاف درج مقدمہ کے مدعی چوہدری محمد اسلم گھمن نے کہا ہے کہ اگر پولیس نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہ کیا تو وہ دوبارہ عدالت سے رجوع کریں گے۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر خورشید احمد نے کہا ہے کہ آئین اور قانون کے نظر میں سب برابر ہیں۔ سابق صدر کے ساتھ بھی قانوں کے مطابق معاملہ ہونا چاہئے۔ قانون پر عملدرآمد کے حوالے سے امتیاز نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کوئی پنڈورابکس کھلتا ہے تو کھلنے دیں بات دور تک جاتی ہے تو جانے دیں کم از کم ایک مرتبہ تو طے ہو جائے جو آئین توڑتا ہے چاہے وہ کوئی بھی ہو اسے معافی نہیں مل سکتی۔ جے یو آئی (ف) کے رہنما حافظ حسین احمد نے کہا کہ قانون سابق فوجی صدر اور عام شہری کے لئے الگ الگ نہیں ہو سکتا، فوری عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ ہونا بھی جرم ہے ایک قومی مجرم کو فرار کا موقع فراہم کیا گیا ہے جو انصاف کے منافی ہے۔ نگران وزیر داخلہ ملک حبیب خود بھی سابق فوجی افسر رہے ہیں، نے اپنے سابق فوجی پیٹی بند بھائی کے لئے ”فولاد“ جیسے قانون کو ”موم“ کردیا۔ تحریک انصاف کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ عدالتی حکم پر فوری عملدرآمد ضروری ہے۔ انتظامیہ اسٹیبلشمنٹ کا حصہ ہے ابھی تو پرویز مشرف کو عوامی عدالت میں بھی جواب دینا ہے، عوام اس کے انتظار میں ہیں۔ بھٹو کو تو انتہائی غلط طریقے سے پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے مگر آئیں توڑنے والے کو عدالتی حکم پر گرفتار نہیں کیا جاتا۔ سابق وزیر مملکت و پیپلز پارٹی کی رہنما مہرین انور راجہ نے کہا ہے کہ ابھی تک حیران ہےں کہ عدالت کی حکم پر پرویز مشر ف کو عدالت سے کیوں گرفتار نہیں کیا گیا۔ شیخوپورہ سے نامہ نگار خصوصی کے مطابق ڈسٹرکٹ بار شیخوپورہ کے وکلاءنے پرویز مشرف کی عدم گرفتاری اور اس کو حکومتی سکیورٹی دے کر عدالت سے فرار کروانے پر شدید احتجاج کیا اور بار روم میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ قیادت نصراللہ وٹو ایڈووکیٹ نے کی جبکہ چودھری بشیر ایڈووکیٹ، شہباز ایڈووکیٹ، صوفی مشتاق، چوہدری سعید کے علاوہ عبدالمناف خان، آفتاب احمد ایڈووکیٹ، ملک طارق عزیز ایڈووکیٹ، طاہر شہزاد کمبوہ اور دیگر نے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ پرویز مشرف کو فوری طور گرفتار کرکے غداری کا مقدمہ درج کیا جائے۔وائس چیئرمین تحریک انصاف شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مشرف کو ازخود گرفتاری دے دینی چاہئے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر زاہد خان نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے، سابق صدر کو عدالت سے فرار کرانے کے ذمہ دار افسروں کیخلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔ (ق) لیگ کے سیکرٹری اطلاعات و سینیٹر کامل علی آغا نے کہا ہے کہ پرویز مشرف اب سیاست میں آ گئے ہیں اور ان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہو گا جو دوسرے سیاستدانوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے، اگر عدالت نے گرفتاری کا حکم دیا ہے تو انہیں قانون کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے گرفتاری دینی چاہئے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ کسی سے نہ ڈرنے کا نعرہ لگانے والے سابق صدر پرویز مشرف آج عدالتوں سے بھاگ رہے ہیں اور قوم ان کو دیکھ رہی ہے، مشرف کی گرفتاری کا عام انتخابات سے کوئی تعلق نہیں۔