لوڈشیڈنگ کے ستائے پاکستانیوں نے 4 برسوں میں کھربوں روپے کے جنریٹر منگوا لئے

لاہور (ندیم بسرا) لوڈشیڈنگ کے ستائے پاکستانیوں نے گذشتہ 4 برسوں میں 200 ارب روپے سے زائد مالیت کے جنریٹرز درآمد کئے ہیں تاہم حکومت کی طرف سے جنریٹرز چلانے کے لئے گیس فراہم نہ کرنے اور محکمہ سوئی گیس کی جانب سے گیس کنکشن کاٹے جانے کے اعلانات کے باعث گذشتہ دو سالوں سے جنریٹرز کی درآمد میں کمی کا رجحان ہے۔ پاکستان کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2008ءسے جون 2012ءکے درمیان پاکستان میں درآمد کنندگان نے دو ارب 30 کروڑ 50 لاکھ 99 ہزار 453 ڈالر سے زائد مالیت کے جنریٹرز درآمد کئے ہیں۔ 2008ءمیں ایک ارب ڈالر سے زائد کے جنریٹرز چین، فن لینڈ، امریکہ، آسٹریلیا اور یورپ کی مختلف ریاستوں سے پاکستان میں درآمد کئے گئے۔ محکمہ سوئی گیس کی جانب سے گیس پر جنریٹرز چلانے والوں کے خلاف کاروائی کے نتیجے میں اگلے ہی سال 10-2009ءمیں جنریٹرز کی مانگ میں تقریباً 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور جنریٹرز کی درآمد ایک ارب ڈالر سے گر کے 74 کروڑ 41 لاکھ 35 ہزار 697 ڈالر پر آ گئی جو مالی سال 11-2010ءمیں مزید کم ہو کر 25 کروڑ 86 لاکھ 56 ہزار ڈالر اور 12-2011ءمیں 25 کروڑ 51 ہزار ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری اعداد و شمار میں انڈر انوائسنگ کا عنصر بھی شامل کر لیں تو ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ چار سالوں میں 350 سے 400 ارب روپے کے جنریٹرز درآمد کئے گئے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ پاکستان کسٹمز اور دوسرے ملکوں کے کسٹمز کے محکموں کے مابین معلومات اور ڈیٹا کے تبادلے کے لئے کوئی معاہدہ نہ ہونا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق اگر چین سے پاکستان کو دو ارب ڈالر کی مصنوعات برآمد ہوتی ہیں تو پاکستان کسٹمز کے ریکارڈ کے مطابق چین سے درآمدات کا حجم ایک ارب ڈالر ہوتا ہے اور باقی ایک ارب ڈالر ان مصنوعات کی قیمت کم ظاہر کر کے ڈیوٹی اور ٹیکس چوری میں نکل جا تا ہے۔