عدالتیں ڈرون حملوں پر خاموش نہیں رہ سکتیں : لاہور ہائیکورٹ

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ ڈرون حملوں کے معاملے پر عدالتیں خاموش نہیں رہ سکتیں کیونکہ یہ خالصتاً انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ عوامی مفاد کے ایسے مسائل کو کوئی بھی شہری عدالتوں میں لیجا کر انکی پیروی کرسکتا ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس عمر عطاءبندیال نے یہ ریمارکس جماعت الدعوة کے امیر حافظ محمد سعید کی طرف سے ڈرون حملوں کیخلاف دائر رٹ درخواست کی سماعت کے دوران دئیے۔ فاضل عدالت نے ڈرون حملوں کیخلاف دائر رٹ کی مزید سماعت 21 مئی تک ملتوی کردی۔ فاضل عدالت نے گزشتہ روز کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل یاسمین سہگل نے موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ ڈرون حملوں کیخلاف درخواست کی سماعت کا اختیار نہیں رکھتی، ڈرون حملے پنجاب میں نہیں ہورہے اسلئے مذکورہ کیس کو سپریم کورٹ ہی دیکھ سکتی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ خالصتاً انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ اس انتہائی حساس مسئلہ پر عدالتیں خاموش نہیں رہ سکتیں۔ چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو اس حوالے سے آئین اور قانون کی روشنی میں دلائل دینے کو کہا تو وہ عدالت کو مطمئن نہ کرسکیں اور استدعا کی کہ اس سلسلہ میں عدالتی معاون مقرر کیا جائے۔