دیہی علاقوں میں معیاری طبی ادارے قائم کرنے کی ضرورت ہے: وزیر صحت

لاہور (نیوز رپورٹر) وزیر صحت پنجاب مسز سلیمہ ہاشمی نے طبی ماہرین پر زور دیا کہ وہ بیماریوں کے علاج کے ساتھ امراض کے تدارک کے لئے اقدامات اور ہیلتھ ایجوکیشن پر زیادہ توجہ دیں۔ انہوں نے یہ بات کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کے لاہور چپٹر کے دورہ کے موقع پر کہی۔ اس موقع پر ریجنل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل، محکمہ صحت پنجاب کے ایڈیشنل سیکرٹری (ٹیکنیکل) ڈاکٹر انور جنجوعہ، نائب صدر پروفیسر رخشندہ رحمن، پروفیسر علی مہدی ہاشمی، پروفیسر محمد شعیب شفیع، پروفیسر سید اصغر نقی اور فیکلٹی کے دیگر ارکان بھی موجود تھے۔ سلیمہ ہاشمی نے کہا کہ دیہی علاقوں میں بھی معیاری طبی ادارے قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ بڑے شہروں کی طرف نہ آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ نگران حکومت کا کام آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات منعقد کرانا ہے تاہم مسائل سے نظریں نہیں چرائی جا سکتی اور جو مسائل درپیش ہیں ان کا تدارک بھی نگران حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پروفیسر خالد مسعود نے بتایا کہ سعودی عرب، امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر ممالک میں CPSP کی ڈگری کو نہ صرف تسلیم کیا جاتا ہے بلکہ کئی ممالک میں CPSP امتحانات بھی کنڈکٹ کراتی ہے اور اس کالج کے اعلی تربیت یافتہ میڈیکل سپیشلسٹ اور ٹیچرز اندرون ملک سرکاری میڈیکل کالجوں، ٹیچنگ ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں بلکہ دیگر ممالک میں بھی اپنے ملک کا نام روشن کررہے ہیں۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے میڈیکل ٹیچرز ٹریننگ کورس کے شرکاءمیں اسناد بھی تقسیم کیں۔