جیل نظام میں اصلاحات پروگرام کو آگے بڑھایا جائے: نجم سیٹھی

لاہور (خصوصی رپورٹر) نگران وزیر اعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ جیلوں میں قیدی نابالغ بچوں اور خواتین کو مختلف فنون کی تربیت دے کر معاشرہ کا مفید شہری بنایا جا سکتا ہے۔ قیدی بچوں کی ذہنی و نفسیاتی صحت پر توجہ دی جائے تاکہ وہ سزا پوری کرنے کے بعد جرائم کی دنیا سے دور رہیں۔ جیلوں میں قید نابالغ بچوں اور قیدی خواتین کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ قیدی خواتین کو ان کے رہائشی اضلاع کے قریب جیلوں میں رکھا جائے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ جیلوں میں قیدیوں کو اہل خانہ سے بات چیت کی سہولت فراہم کرنے کیلئے پی سی اوز لگانے کے کام کو تیز کیا جائے اور جیلوں میں صفائی کے انتظامات بہترین اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔ وہ گذشتہ روز ایوان وزیر اعلیٰ میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جیل نظام میں اصلاحات کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں میں این جی اوز کے تعاون سے 30 کمپیوٹر لیبز کا قیام خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور، شیخوپورہ اور قصور کی جیلوں میں این جی اوز کے تعاون سے سکول بھی کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی 22 جیلو ںمیں آئی ٹی لیبز قائم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں میں قیدیوں کو خوراک کی فراہمی کو بھی بہتر کیا گیا ہے۔ جیلوں میں قیدیوں کے علاج معالجے کیلئے طبی آلات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ جیلوں میں قیدیوں کی باقاعدہ مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مو¿ثر بنایا جائے، سرچ آپریشن کا سلسلہ بھی جاری رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں کو قیدیوں کیلئے تکلیف کی جگہ ہونے کی بجائے اصلاحات کا مرکز ہونا چاہئے تاکہ وہ جیل سے رہا ہونے کے بعد کسی گینگ کا حصہ بننے کی بجائے معاشرے کے مفید رکن بنیں۔ انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات نے جیل کے نظام اور اس میں اصلاحات کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب کی جیلوں میں 850 خواتین اور 825 نابالغ بچے قید ہیں۔ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کے پیش نظر نئی جیلیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ نے پشاور خودکش دھماکے میں مقامی اخبار کے سب ایڈیٹر طارق اسلم کے جاںبحق ہونے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔