کراچی میں دہشت گردوں ‘ بھتہ خوروں پر قابو پانے کے لئے پنجاب پولیس کے افسر بھجوانے کا فیصلہ

کراچی میں دہشت گردوں ‘ بھتہ خوروں پر قابو پانے کے لئے پنجاب پولیس کے افسر بھجوانے کا فیصلہ

لاہور (معین اظہر سے) حکومت کی جانب سے کراچی میں دہشت گردوں، بھتہ مافیا کو کنٹرول کرنے کے لئے پنجاب پولیس کے افسروں کو کراچی بھجوانے کا فیصلہ کر لیا گیا جس کے لئے آئی جی پنجاب وزیر اعلیٰ پنجاب کو لیٹر لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ پنجاب پولیس کے افسروں کو ایف آئی اے میں ڈیپوٹیشن پر تعینات کرنے کی پابندی ختم کی جائے کیونکہ بین الصوبائی تبادلہ پر پابندی ہے لیکن ڈیپوٹیشن پر ایف آئی اے میں تعینات ہونے سے افسروں کو بہتر مواقع میسر آئیں گے۔ جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے تجویز کی منظوری دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے عائد پابندی کو ختم کرنے کے حوالے سے کیس تیار کرنے کے لئے چیف سیکرٹری پنجاب کو ہدایات جاری کر دیں جس پر ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت ایف ائی اے میں پنجاب پولیس کے افسروں کی ڈیپوٹیشن پر تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر کے ان کو بعدازاں وزارت داخلہ کی طرف سے کراچی میں پوسٹ کرے گی جس کے بعد وہاں پر امن قائم کرنے کی کوششوں کو تیز کیا جائےگا، یا ان کو ایف آئی اے کے انسداد دہشت گردی سیل میں تعینات کر کے کراچی میں صورتحال بہتر بنائی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق آئی جی پنجاب خان بیگ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو اپنی طرف سے بھجوائی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت بین الصوبائی تبادلہ پالیسی میں پنجاب پولیس کے افسروں کو پابندی کے تحت ایف آئی اے میں تعینات نہیں کیا جا سکتا۔ بین الصوبائی تبادلہ پالیسی میں پابندی ہے کہ ایک صوبے کے پولیس افسروں کو دوسرے میں تعینات نہیں کیا جا سکتا ہے جب تک دونوں صوبے یا حکومتیں آپس میں راضی نہ ہوں۔ انہوں نے کہا ہے کہ جبکہ ڈیپوٹیشن پر تعیناتی کے لئے یہ وجہ بتائی جاتی ہے کہ دیگر صوبوں میں پنجاب پولیس کے تمام رینک کو تعینات کرنے یا ایک صوبہ کے پولیس افسر کو دوسرے صوبہ میں تعینات کرنے سے ایک ہی طرح کا کام کرنا ہو گا جس سے اس کی پرفارمنس، تجربہ پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا نہ ہی اس سے کوئی فائدہ حاصل ہو گا لیکن اگر ڈیپوٹیشن پر ایف آئی اے میں جانے پر پابندی ختم کر دی جائے تو پنجاب پولیس کے افسروں کو سائبر کرائمز، الیکٹرانک کرائمز، انسداد دہشت گردی، اکنامک کرائمز، امیگریشن اور انسانی سمگلنگ جیسے شعبہ جات میں کام کرنے کا موقع ملے گا۔ جب وہ خاص عرصہ بعد ڈیپوٹیشن سے واپس آئیں گے تو ان کو ان شعبہ جات میں کافی تجربہ ہو گا جس کا فائدہ پنجاب پولیس اٹھا سکتی ہے۔ اسی طرح پولیس کے افسروں کے ایف آئی اے میں ڈیپوٹیشن پر جانے سے پنجاب پولیس کے افسروں کے لئے نئی اسامیاں پیدا ہوں گی جس کی وجہ سے پروموشن کا عمل تیز ہو گا اور زیادہ سے زیادہ پولیس کے افسروں کو بہتر اور اچھی پوسٹوں پر تعینات کر کے ان سے امن و امان کے قیام کے لئے بہتر نتائج حاصل ہونگے تاہم ماضی میں بے شمار پولیس افسروں کی طرف سے ایف آئی اے میں ڈیپوٹیشن پر تعیناتیوں کی درخواستیں آتی رہی ہیں جن کو اس بنیاد پر رد کیا جاتا رہا ہے کہ بین صوبائی تبادلہ پالیسی میں دیگر صوبوں اور ایف آئی اے میں ڈیپوٹیشن پر عائد پابندی ہے۔ جبکہ واضح رہے کہ بین الصوبائی تبادلہ پالیسی پر پابندی جاری رکھتے ہوئے صرف بین الصوبائی تبادلہ پالیسی میں تبدیلی کر کے ڈیپوٹیشن پر افسروں کو ایف آئی اے میں بھجوانے کی اجازت وفاقی حکومت سے لے لی جائے۔